ادب یہی ہے کہ وہاں جا کر اپنی موت کو یاد کریں۔ اپنے مرنے کو سوچیں اور مرنے کے بعد اپنے قبر کے احوال کو سوچیں اور یہ سوچیں کہ آج یہ لوگ جو قبروں میں مدفون ہیں، ایک وقت وہ تھا جب وہ بھی ہماری طرح دنیا میں کھاتے پیتے تھے، رہتے سہتے تھے۔ لیکن آج اپنی قبروں کے اندر عذاب میں ہیں یاثواب میں ہیں، کچھ پتہ نہیں۔ ہمیں بھی ایک دن یہاں پہنچنا ہے۔ جس طرح آج میں ایک جنازہ کو لے کر یہاں آیا ہوں، اسی طرح ایک دن مجھے بھی جنازہ کی صورت میں یہاں لایا جائے گا۔ ایک روز موت آجائے گی۔ اس وقت نہ بیوی ساتھ آئے گی، اور نہ مال ساتھ آئے گا۔ بہت سے بہت بچے قبر تک آجائیں گے۔
تمام زندگی کی محبت کا صلہ:
حضرت ڈاکٹر عبدالحی صاحبؒ ، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے (آمین)، پاپوش نگر کے قبرستان میں حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ کی تدفین کے موقع پر تشریف لے گئے۔ وہاں حضرت والا ؒ نے یہ شعر سنایا۔
زندگی بھر کی محبت کا صلہ یہ دے گئے
دوست اور احباب آکر مجھ کو مٹی دے گئے
کتنا بھی گہرے سے گہرا دوست ہو، اس کی یہ کوشش اور خواہش ہوتی ہے کہ کم از کم مٹی دینے میں ضرور شرکت ہوجائے اور اس کو اس مرنے والے کا آخری حق سمجھا جاتا ہے۔ اسی کو آدمی سوچ لے کہ دنیا میں جتنے دوست و احباب ہیں وہ بہت سے بہت اتنا کریں گے کہ ہمیں قبرستان پہنچادیں گے اور تین تین مٹھیاں مٹی ڈال کر چلے جائیں گے اور زبان سے یہ کہیں گے کہ آگے تو جانے، تیرا عمل جانے۔ قبرستان جاکران باتوں کو سوچنا چاہیے، قبرستان جانے کا اصل ادب یہ ہے۔ اس کے ذریعہ انسان کے دل سے دنیا کی محبت نکلتی ہے اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے اور انسان آخرت کے لیے متفکر ہوتا ہے اور پھر آخرت کی تیاری کے لیے اس کے اندر کچھ آمادگی پیدا ہوتی ہے۔
قبر کے عذاب سے پناہ مانگو:
بہر حال، اس حدیث میں حضور اقدس ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا کہ قبر کے عذاب سے پناہ مانگو، قبر کے عذاب سے پناہ مانگو، قبر کے عذاب سے پناہ مانگو، اس لیے چوتھا ادب یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے قبر کے عذاب سے پناہ مانگنی چاہیے۔ اس کی طرف سے بھی ہمارے اندر بڑی غفلت پائی جاتی ہے۔ بیسیوں انسانوں کو قبرستان پہنچا کر آگئے، مگر کبھی اپنے لیے عذاب قبر سے پناہ نہیں مانگی اور کبھی یہ دعا نہیں کرتے کہ یا اللہ ہمیں اور ہمارے ماں، باپ کو، ہمارے اہل وعیال کو قبر کے عذاب سے بچا۔ تاہم قبر کا عذاب بالکل برحق ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میرے پاس ایک یہودی عورت آئی اور باتوں باتوں میں اس نے قبر کے عذاب کا تذکرہ کیا اور اس نے ساتھ ہی حضرت عائشہ ؓ کو دعادی کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو قبر کے عذاب سے پناہ دے۔ جب وہ عورت چلی گئی تو اس کے بعد سرکار دو عالم ﷺ گھر میں تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ایک یہودی عورت آئی تھی، وہ کہہ رہی تھی قبر کے اندر عذاب ہوتا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟ آں حضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! عذاب قبر برحق ہے۔ اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ پھر میں نے حضوراقدس ﷺ کو ہمیشہ ہر نماز کے بعد قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنا۔
آپ ﷺ کا یہ عمل ہمارے لیے تعلیم ہے کہ ایک دن مرنے کے بعد قبر میں ضرور جانا ہے۔
آخرت کی منزل میں پہلی منزل قبر ہے:
اگر قبر میں راحت مل گئی توآگے بھی راحت ہی راحت ہے اور اگر خدانخواستہ وہاں عذاب ہوگیا تو پھر آگے کی منزلیں اور کٹھن ہوں گی۔ اس لیے حضرت عثمان ابن عفان ؓ کا معمول تھا کہ جب آپ ﷺ کسی قبر پر تشریف لے جاتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو جاتی، کسی نے