کچھ تفصیل سے ہوگئیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آج جو باب شروع ہورہا ہے، وہ پینے کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقے ہیں اور آپ ﷺکا اسوہ حسنہ اور آپ ﷺکی مبارک سنتیں ہیں۔ امی عائشہr فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺکو پینے کی دوچیزوں میں ٹھنڈی اور میٹھی چیز زیادہ پسند تھی۔ (ترمذی،جلد دوم صفحہ11)
پینے میںنبیﷺ کی پسند کیا تھی؟ کہ چیز ٹھنڈی بھی ہو اور میٹھی بھی ہو۔اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ شہد کا شربت یا کھجور کا نبیذ مراد ہو ،لیکن ایک بات بہت خاص اور اہم ہے کہ کھانے پینے میں بالخصوص کھانے کے اندر نبی کریمﷺکسی قسم کا اہتمام نہ فرماتے۔ ہاں! اگر کوئی مہمان ہوتا تو اور بات تھی۔ اپنے لیے، گھر والوں کے لیے کسی قسم کا اہتمام نہ فرماتے جو حاضر ہوتا اللہ کا شکر ادا کرتے اور اس کو نوش فرمالیتے۔ لیکن پینے کے بارے میں آتا ہے کہ نبی کریمﷺ کے دربار میں میٹھے اور ٹھنڈے پانی کا خاص اہتمام تھا۔ اسی لیے نبیﷺ کے لیے ٹھنڈا اور میٹھا پانی مدینہ شریف سے 36 میل دور سقیا نامی جگہ سے لایا جاتا تھا، تو گویا ٹھنڈے پانی کا اہتمام کرنا بھی سنت ہے۔ (مدارج)
نبی کریم ﷺ نے جن کنوؤں سے پانی نوش فرمایا:
امی عائشہ rفرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے لیے مقام سقیا سے ٹھنڈا پانی منگوایا جاتا جو مدینہ طیبہ سے دو دن کی مسافت پر تھا۔ (مشکٰوۃ صفحہ 371)
یعنی دو دن پیدل چلیں تو انسان وہاں پہنچتا ہے، پھر پانی وہاں سے لے کر واپس آتا ہے تو اس میں دو دن اور لگتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مدینہ طیبہ کے اندر ٹھنڈا پانی