دستیاب نہیں تھا، وہاں کھاری پانی ہوتا تھا۔ (مواہب جلد7صفحہ357)
آپﷺ کی پسند ٹھنڈا پانی تھا۔ حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بیوی کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے جب حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہاں قیام کیا تو آپﷺ کے لیے مالک بن نضر کے کنوئیں سے میٹھا پانی لایا جاتا ،پھر اس کے علاوہ ازواجِ مطہرات کے لیے بئر سقیا سے پانی لایا جاتا اور رباح اسود جو حضورﷺکے غلام تھے اور خادم بھی تھے وہ کبھی بئر سقیا سے پانی لاتے اور کبھی بئر غرس سے پانی لاتے۔(شمائل کبرٰی)
یہ مختلف کنوئیں تھے۔ حضرت ہشیم بن نضر نے کہا کہ میں آپﷺ کے لیے بئر تیہان سے پانی لایا کرتا تھا۔اس کا پانی بہت میٹھا اور شاندار تھا۔
(سیرت الشامی جلد 7صفحہ346)
عمرو بن حاکم کہتے ہیں کہ نبی کریمﷺکے لیے ٹھنڈا پانی بئر غرس سے لایا جاتا اور آپﷺ اسی کنویں کے پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے۔ اس کا پانی نہایت عمدہ تھا، اور آپﷺ نے اس کے متعلق ارشاد فرمایا کہ بئر غرس بہترین کنواں ہے اور اس کا تعلق جنت کے چشموں سے ہے۔ (سیرت الشامی جلد 7صفحہ357)
انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ جو کہ خادم رسول ہیں، فرماتے ہیں کہ آپﷺ بئر غرس پر تشریف لائے اور پانی سے کلی کی اور وہ پانی کنوئیں میں برکت کے لیے ڈال دیااور فرمایا کہ یہ جنت کے چشموں میں سے ہے۔ (سیرت الشامی جلد 7صفحہ371)
پانی ٹھنڈا کر کے پینا بھی آپﷺ سے ثابت ہے:
حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ آپﷺ کے لیے پرانے مشکیزے میں پانی کو ٹھنڈا کیا جاتا۔(سیرت الشامی جلد 7صفحہ371)