یعنی پہلے تو میٹھے پانی کا اہتمام ہوتا پھر ٹھنڈا کرنے کے لیے اس کو خاص چیزوں میں رکھا جاتا ، تو اس سے معلوم ہوا کہ ٹھنڈے پانی کے اہتمام کے لیے برف کا انتظام کرنا، صراحی کا انتظام کرنا، واٹر کولر کا انتظام کرنا یہ سب خلافِ سنت نہیں بلکہ یہ سب سنت میں شامل ہے اور یہ زہد کے خلاف بھی نہیںورنہ نبی ﷺ اس کو استعمال نہ فرماتے۔ تو پانی کے لیے واٹر کولر کا انتظام کرنا سنت ہے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شاگرد وں سے فرمایا کہ اے بیٹو! پانی کو ٹھنڈا کرکے پیو!کیونکہ ٹھنڈا پانی پینے کی وجہ سے دل کی گہرائیوں سے شکر ادا ہوتا ہے۔ (مدارج جلد5صفحہ15)
انسان کو پیاس لگی ہو، گرمی لگی ہو، اس وقت سادہ پانی پی لے تو شکر کی وہ کیفیت نہیں نکلے گی۔ اس وقت ٹھنڈا پانی ہو، میٹھا پانی جس سے طبیعت سیراب ہوجائے ، اس کی رگ رگ اللہ کا شکر ادا کررہی ہوتی ہے۔
رات کا باسی پانی:
بخاری شریف میں ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے۔ آپﷺ کے ساتھ ایک صحابی اور بھی تھے۔ جو باغ والے انصاری صحابی تھے وہ باغ کو پانی دے رہے تھے۔ آپﷺ وہاں پہنچے تو ان سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس رات کا بچا ہوا باسی پانی موجود ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو لے آؤ ورنہ پھر اسی تازہ کیاری والے پانی کو ہی میں استعمال کروں۔ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی!رات کا باسی پانی مشکیزے میں موجود ہے۔ چنانچہ وہ گئے اور پانی لےآئے۔ اور وہیں ایک بکری بھی تھی بکری کا دودھ دوہا ، دودھ نکالا اور پھر پانی اور