رحم فرمائیں، توصحابہ نے عرض کیا کہ: ’’اے اللہ کے رسول! سر کتروانے والوںپر بھی رحمت ہو‘‘، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایاکہ: رحم اللّٰہ المحلقین۔ تو صحابہ نے دوبارہ مقصرین یعنی کتروانے والوں کے لئے دعا کی درخواست کی، مگر آپ نے تیسری مرتبہ بھی حلق کرنے والوں ہی کے لئے دعا فرمائی اور چوتھی مرتبہ میں مقصرین کو دعا میں شامل فرمایا۔ (بخاری شریف ۱۷۲۷، مسلم شریف ۱۳۰۱ وغیرہ)
حضرت مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا فرماتے ہوئے سنا:
اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِیْنَ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِیْنَ (اے اللہ سرمنڈانے والوں کی مغفرت فرما، اے اللہ سر منڈانے والوں کی مغفرت فرما)
تو مجلس میں بیٹھے ہوئے کسی صاحب نے فرمایا کہ ’’وَلِلْمُقَصِّرِیْنَ‘‘ یعنی سر کے بال کتروانے والوں کی بھی مغفرت ہو اس کی بھی دعا فرمائیں تو پیغمبر علیہ السلام نے تیسری یا چوتھی مرتبہ مقصرین یعنی بال کتروانے والوں کی مغفرت کی دعا فرمائی، اس کے بعد ارشاد فرمایا:
وَأَنَا یَوْمَئِذٍ مَحْلُوْقُ الرَّأْسِ، فَمَا یَسُرُّنِيْ بِحَلْقِ رَأَسِيْ حُمْرُ النُّعْمِ أَوْ خَطَراً عَظِیْمًا۔ (رواہ أحمد ۴؍۱۷۷، الترغیب والترہیب ۲۷۶)
(اور میں آج سر منڈائے ہوئے ہوں اور میرے لئے سر کے بال منڈانے کے بجائے سرخ اونٹ یا عظیم مال ملنا باعث مسرت نہیں ہے)
ان روایات سے معلوم ہوا کہ شریعت میں اصل مطلوب مردوں کے لئے سروں کا مونڈنا ہے، اس لئے بلا معقول عذر کے اس سعادت سے محروم نہیں رہنا چاہئے، اورمحض بالوں سے محبت کے جنون میں ایسے عظیم اجر وثواب کو چھوڑنا نہیں چاہئے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۶؍۳؍۱۴۳۶ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اﷲ عنہ
مشین سے بال کٹانے پرحلق کی فضیلت ثابت نہ ہوگی
سوال(۱۲۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حج وعمرہ سے فراغت پر جو حلال ہونے کے لئے مشین سے سر کے بال اُتارتے ہیں، کیا اس سے حلق کی فضیلت حاصل ہوگی یا یہ قصر ہی ہے؟ حلق صرف اُسترے یا بلیڈ سے ہی ہوتا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مروجہ مشین قصر کے درجہ میں ہے، اس سے حلق کی فضیلت حاصل نہ ہوگی؛ البتہ حلق کے لئے آئندہ کوئی مشین ایجاد ہوجائے، تو اس کا حکم الگ ہوگا۔
والتقصیر أن یأخذ من رؤوس شعرہٖ مقدار الأنملۃ۔ (مراقي الفلاح ۷۳۶ دار الکتاب دیوبند)
والمراد بالتقصیر أن یأخذ الرجل والمرأۃ من رؤوس شعر ربع الرأس مقدار الأنملۃ۔ وفي البدائع قالوا: یجب أن یزید في التقصیر علی قدر الأنملۃ حتی یستوفي قدر الأنملۃ کل شعرۃ برأسہٖ؛ لأن أطراف الشعر غیر متساویۃ عادۃً۔ (شامي ۳؍۵۳۴ زکریا، بدائع الصنائع ۲؍۳۳۰ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم