سوال(۴۵۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اولاد کے لئے جدید تکنیک کے مطابق بلڈ بینک کی طرح اسپرم بینک سے اسپرم لے کر لیڈی ڈاکٹر سے حمل کرایا جائے ،اس عمل میں زید کا پیسہ خرچ ہوگا؛ لیکن اس کا جسمانی دخل نہیں ہوگا، یہ طریقہ شریعت کے مطابق کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:جدید تکنیک کے مطابق دوسرے کا مادۂ منویہ لے کر استقرار کرانے میں بے حیائی اور فحاشی پائی جاتی ہے، اور یہ ایک طرح کی زنا کاری ہے، اس لئے یہ طریقہ شرعاً ہرگز جائز نہیں ہے۔ (مستفاد: فقہی مضامین ۳۰۶) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۸؍۶؍۱۴۲۸ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اﷲ عنہ
بچے کے حصول کے لئے مرد کی منی بذریعہ انجکشن عورت کے رحم میں ڈالنا؟
سوال(۴۵۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک شخص شادی شادہ ہے، ۱۳؍سال بعد بھی بے اولاد ہے، ڈاکٹروں سے جانچ کرانے پر ان کا کہنا یہ ہے کہ اس شخص کے جسم میں حمل ٹھہرنے والاجراثیم ہے؛ لیکن قدرتی نظام کے مطابق باہر نہیں نکلتا؛ لیکن اگر انجکشن کے ذریعہ وہ جراثیم شوہر کے جسم سے نکال کر بیوی کے رحم میں ڈال دئے جائیں، تو انشاء اللہ حمل ٹھہر جائے گا، اور اولاد بھی ہوگی، اس مسئلہ کو بندہ نے تلاش کیا تو مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی کتاب ’’جدید میڈیکل مسائل‘‘ میں صورتِ مذکورہ کو جائز لکھا ہے۔ جدید فقہی مسائل ۵؍۱۵۴ میڈیکل مسائل ودلائل بھی موجود ہیں، شوہر ہی کے مادہ منویہ کو بیوی کے رحم میں بذریعہ انجکشن ڈالنے کی اس صورت میں دیگر حضرات مفتیانِ کرام کیا فرماتے ہیں؟ کیا حصول اولاد کے لئے یہ صورت اختیار کرنا دلیل مذکورہ کی وجہ سے جائز ہے؟ دلائل کو پیش کرنے کے بعد حضرت مولانا فرماتے ہیں کہ اس لئے اس بے مایہ کا خیال ہے کہ اولاد سے محروم شوہر وبیوی کے لئے اولاد کا حصول ایک فطری اور طبعی داعیہ ہے کہ اس کے لئے شوہر کی مرد طبیب اور عورت کی عورت طبیبہ کے سامنے بے ستری گوارہ کی جاسکتی ہے۔ جہاں تک یہ خلافِ فطرت ہونے کی بات ہے تو یہ ممانعت کی کوئی قوی دلیل نہیں ہے، ایک فطری ضرورت اور تقاضہ کی تکمیل کے لئے ایسی غیرفطری صورت اختیار کرنا جس کی ممانعت پر نص وارد نہ ہو، جائز ہوگا؟ دواؤں کے ایصال کی اصل راہ منہ اور حلق ہے؛ لیکن مصلحۃً حقنہ کی اجازت ہے، بچہ کی ولادت کی اصل راہ عورت کی شرم گاہ ہے؛ لیکن ضرورت ہو تو آپریشن کی اجازت ہے۔ قیاساً علیہ۔ (جدید میڈیکل مسائل ۵؍۱۶۰)
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں دو شکلیں ہوسکتی ہیں: اول یہ کہ کسی ڈاکٹر یا ڈاکٹرنی یا میاں بیوی کے علاوہ کسی تیسرے شخص کے ذریعہ یہ استقرار حمل کرایا جائے، تو یہ صورت بالکل ناجائز ہے، چوںکہ اس میں انتہائی درجہ کی بے حیائی لازم آتی ہے۔ دوسری شکل یہ ہے کہ خود میاں بیوی آپس میں یہ عمل انجام دیں یعنی شوہر خود