صورتِ حال میں اس گھر یا اس کے ہاتھ کا کھانا پینا کیسا ہے؟ اس سے اولاد بھی پیدا ہوچکی ہیں۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: حلالہ کی صحت کے لئے ضروری ہے کہ طلاق کی عدت گذرنے کے بعد دوسرے شخص سے نکاح کیا جائے، پھر وہ جماع کے بعد طلاق دیدے یا تفریق ہوجائے، اور اُس کی عدت گذرنے کے بعد شوہرِ اول سے نکاح ہو، عدت کی تکمیل سے قبل نکاح کی اجازت نہیں ہے۔ اب تحقیق کرلی جائے اگر حلالہ میںیہ شرطیں ملحوظ رہی ہیں، تو دوسرا نکاح صحیح ہے، اور اگر کوئی بھی شرط پوری نہیں ہوئی ہو تو نکاح درست نہ ہوگا، اور اُن میں زن وشوئی کا تعلق حرام کاری قرار پائے گا۔
قال العلامۃ آلوسي: فإن طلقہا أي الزوج الثاني فلا جناح علیہما، أي علی الزوج الأول والمرأۃ أن یتراجعا، أي یرجع کل منہما إلی صاحبہ بالزواج بعد مضي العدۃ۔ (روح المعاني ۲؍۲۱۲ زکریا، وکذا في التفسیر المظہري ۱؍۳۴۷ زکریا)
ولا تحل الحرۃ بعد الثلاث إلا بعد وطي زوج اٰخر بنکاح صحیح ومضي عدتہ۔ (مجمع الأنہر ۱؍۴۳۸) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۸؍۱؍۱۴۱۶ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
حلالہ کا شرعی طریقہ
سوال(۳۳۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حلالہ کی شرعی حیثیت ہے یا نہیں؟ اگر شرعی حیثیت ہے تو طریقۂ کار کیا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: حلالہ کا طریقہ یہ ہے کہ شوہرِ اول کے طلاق دینے کے بعد جب عدت تین حیض گذر جائے، تو دوسرے شخص سے نکاح کرلے اور شوہرِ ثانی اس سے ہم بستر ہونے کے بعد ایسے طہر میں طلاق دے جس میں جماع نہ کیا ہو، بعد ازاں عدت گذر جانے پر شوہرِ اول کے لئے حلال ہوگی۔
قال اللّٰہ تبارک وتعالیٰ: {فَاِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ} [البقرۃ، جزء آیت: ۲۳۰]
عن نافع کان ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما إذا سُئل عمن طلّق ثلاثًا، قال: قال لو طلقت مرۃً أو مرتین، فإن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أمرني بہٰذا، فإن طلقہا ثلاثًا حرُمت حتی تنکح زوجًا غیرہ۔ (صحیح البخاري، ۲؍۷۹۲ رقم: ۵۲۶۴، صحیح مسلم ۱؍۴۷۶ رقم: ۱۴۷۱)
عن ابن عمر رضي اللّٰہ عنہما قال: سئل النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یُطلق امرأتہ ثلاثًا فیتزوجہا الرجل، فیغلق البابَ، ویُرخِي السترَ، ثم یطلقہا قبل أن یدخل بہا، قال: لا تحل للأول حتی یُجامعہا الآخر۔ (سنن النسائي ۲؍۸۴ رقم: ۳۴۴۴)
وإن کانت الطلاق ثلاثا في الحرۃ وثنتین في الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجًا غیرہ نکاحًا صحیحًا، ویدخل بہا ثم یطلقہا أو یموت عنہا۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۴۷۳) فقط واﷲ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۵؍۱؍۱۴۲۵ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اﷲ عنہ