السنۃ إذا وقع بین الزوجین اختلاف أن یجتمع أہلہا لیصلحوا بینہما؛ فإن لم یطلبہا جاز الطلاق، والخلع وہٰذا ہو الحکم المذکور في الاٰیۃ۔ (شامي ۵؍۸۷ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱؍۱۱؍۱۴۲۱ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
طلاق کے مطالبہ پر شوہر نے کہا کہ ’’طلاق نہیں دوں گا تم چاہو تو خلع کرسکتی ہو‘‘؟
سوال(۵۰۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کی بیوی اپنے شوہر سے بدکلامی سے پیش آئی اور کھل کر بے ادبی سے اپنے شوہر کا نام بدزبانی سے پکارتی ہے، اور ساتھ ہی ساتھ بڑے طنز اور تیز گفتگو سے یہ الفاظ اپنی زبان سے ہمہ وقت کہتی ہے کہ ’’تم مجھے طلاق دے دو، یا فیصلہ کردو؛ اس لئے کہ میں تم سے اور تمہارے گھر والوں سے اور تمہارے رشتہ داروں سے خوش نہیں ہوں‘‘ یہ کلام جب زید اپنی بیوی کی زبان سے سنتا ہے تب زید اپنی بیوی کو جواب دیتا ہے کہ ’’میں تجھے طلاق نہیں دوںگا اور اگر تم چاہتی ہو تو خلع کراسکتی ہو‘‘؟ تو کیا یہ لڑکے کا کہنا صحیح ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: بیوی کے طلاق کے مطالبہ پرشوہر کا یہ کہنا کہ ’’طلاق نہیں دوںگا، خلع کراسکتی ہو‘‘ صحیح ہے؛ لہٰذا اگر عورت تفریق چاہتی ہے تو اپنا مہر معاف کرکے خلع کرلے۔
وإن تشاق الزوجان وخافا أن لا یقیما حدود اللّٰہ فلا بأس بأن تفتدي نفسہا منہ بمال یخلعہا بہ۔ (الہدایۃ ۲؍۴۰۴، ۲؍۴۱۳ المکتبۃ النعیمیۃ دیوبند)
ہو إزالۃ ملک النکاح المتوقفۃ علی قبولہا۔ (تنویر الأبصار مع الدر / باب الخلع ۳؍۴۳۹ کراچی، کذا في الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۵؍۵ رقم: ۷۷۱ زکریا)
ولا بأس بہٖ عند الحاجۃ للشقاق بعدم الوفاق بما یصلح للمہر۔ (الدر المختار ۳؍۴۴۱ کراچی) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۶؍۵؍۱۴۱۹ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
شوہر کے ناکارہ ہونے کی وجہ سے اُس سے خلع کرانا
سوال(۵۰۷):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک لڑکی جس کی شادی ایک ایسے لڑکے کے ساتھ ہوئی جو ناکارہ تھا، جس کی وجہ سے ان کی خانگی زندگی زیادہ عرصہ نہ چل سکی، اور اب لڑکی کو گھر واپس آئے ہوئے تقریباً تین سال ہوگئے ہیں، لڑکی اپنے شوہر سے برابر طلاق کا مطالبہ کرتی ہے؛ لیکن وہ اسے طلاق نہیں دیتا ہے۔ کیا لڑکی خود طلاق لے سکتی ہے اور اس کی کیا شرائط ہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں لڑکی کو چاہئے کہ وہ خلع کرالے یعنی اپنا مہر وغیرہ معاف کرکے شوہر سے طلاق لے لے، اگر وہ لڑکا خلع پر تیار ہو تو خلع کرنے