کے بعد عدت (تین حیض) گذارکر اس لڑکی کا نکاح دوسرے شوہر سے درست ہوجائے گا۔
اور اگر وہ شوہر خلع پر تیار نہ ہو تو پھر لڑکی اپنا معاملہ مسلمان قاضی یا شرعی عدالت میں پیش کرکے اس کے فیصلہ کے مطابق عمل کرے۔
قال اللّٰہ تعالیٰ: {فَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ} [البقرۃ: ۲۲۹]
وإذا کان الزوج عنینًا أجلہ الحاکم سنۃ، فإن وصل إلیہا فبہا، وإلا فرق بینہما إذا طلبت المرأۃ ذٰلک وتلک الفرقۃ تطلیقۃ بائنۃ۔ (الہدایۃ / باب العنین وغیرہ ۲؍۴۲۰، کذا في التبیین / الباب الثاني عشر في العنین ۳؍۲۴۰)
وحکمہ أن الواقع بہ ولو بلا مال وبالطلاق الصریح علی مال طلاق بائن۔ (الدر المختار مع الشامي ۳؍۴۴۴ کراچی، ۵؍۹۱ زکریا)
إذا رفعت المرأۃ زوجہا إلی القاضي وادعت أنہ عنین وطلبت الفرقۃ، فإن القاضي یسئلہ: ہل وصل إلیہا أو لم یصل، فإن أقرّ أنہ لم یصل أجّلہ سنۃً … جاء ت المرأۃ إلی القاضي بعد مضي الأجل، وادعت أنہ لم یصل إلیہا … إن اختارت الفرقۃ، أمر القاضي أن یطلقہا طلقۃً بائنۃً، فإن أبی فرّق بینہما، والفرقۃ تطلیقۃ بائنۃً۔ (الفتاویٰ الہندیۃ / باب في العنین ۱؍۵۲۳-۵۲۴ زکریا، الدر المختار علی تنویر الأبصار ۳؍۴۹۶-۵۰۰ کراچی، وکذا في تبیین الحقائق / باب العنین ۳؍۲۴۰-۲۴۳ دار الکتب العلمیۃ بیروت) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۱۳؍۲؍۱۴۱۱ھ
نامرد لڑکے سے خلوتِ صحیحہ کے بعد خلع کرانے پر عدت کا حکم؟
سوال(۵۰۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایک صاحب سے ایک لڑکی کی شادی ہوئی ،ساڑھے تین ماہ بعد لڑکی نے خلع لے لی؛ کیوںکہ لڑکا نامرد تھا، خلوتِ صحیحہ ہوئی؛ لیکن ہم بستری نہیں ہوئی، اس شکل میں لڑکی عدت کے ایام گذارے گی یا نہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: مسئولہ صورت میں جب کہ خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہے، اس لئے خلع کے بعد لڑکی کے لئے عدت گذارنا ضروری ہے، یعنی تین ماہواری تک وہ گھر میں رہے اور اس دوران کسی سے نکاح نہ کرے۔
قال تعالیٰ: {وَلاَ تَعْزِمُوْا عُقْدَۃَ النِّکَاحِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتٰبُ اَجَلَہٗ} [البقرۃ: ۲۳۵]
والخلوۃ بلا مانع کالوطء - إلی قولہ - في ثبوت النسب وتأکد المہر، والعدۃ - إلی قولہ - وخلوۃ الزوج، مثل الوطء في صور تکمیل مہر وإعداد۔ (شامي ۴؍۲۴۹-۲۵۸ زکریا)
وہي العدۃ في حق حرۃ، تحیض لطلاق أو فسخ بعد الدخول حقیقۃ أو حکمًا، ثلاث حیض کوامل۔ (شامي ۵؍۱۸۱-۱۸۲ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۷؍۶؍۱۴۳۴ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ