التعزیر ۵؍۴۱ کراچی)
أما شرائط المعقود علیہ … وأن یکون ملک فیما یبیعہ لنفسہ۔ (البحر الرائق / کتاب البیوع ۵؍۲۵۹ کراچی، فتح القدیر / کتاب البیوع ۶؍۲۴۸ دار الفکر بیروت، شامي / أول کتاب البیوع ۷؍۱۴-۱۵ زکریا)
وإن علم أنہ مغصوب عینہ، لا یحل أن یأکل؛ لأنہ علم بالحرمۃ۔ (فتاویٰ قاضي خان / کتاب الحظر والإباحۃ ۳؍۴۰۰ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۱؍۷؍۱۴۳۴ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
غیر مسلم سے جانور خریدنا؟
سوال(۸۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کچھ لوگ غیر مسلم علاقے سے جانور خریدتے ہیں، جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک پارٹی کو کچھ متعین رقم اور گاڑی دیدی کہ اتنے جانور ہمارے پاس فلاں جگہ تک پہنچادو، یہ پارٹی جانور چراتی ہے اور متعین رقم لے کر دوسرے فریق کے حوالے کردیتی ہے، دوسرے فریق ان چوری کے جانوروں کو یا بتوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جانوروں کو لے کر زندہ فروخت کردیتا ہے، یا ان کا گوشت کاٹ کر فروخت کردیتا ہے، اس کاروبار اور اس طرح کے جانوروں کا گوشت کھانا شرعاً کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:چوری کے جانور اکٹھا کرنے کے لئے معاملہ کرنا سرے سے ناجائز ہے، ایسے جانوروں کو زندہ یا ذبح کرکے فروخت کرنا یا اُن کو خریدنا یا اُن کا کھانا قطعاً حلال نہیں ہے۔ (مستفاد: معارف القرآن ۲؍۳۶۸، امداد المفتیین ۹۳۶، فتاویٰ محمودیہ ۲۴؍۹۲ میرٹھ، جامع الفتاویٰ ۳؍۹۱، امداد الفتاویٰ ۳؍۵۵۰، فتاویٰ رشیدیہ ۴۹۹ تھانوی دیوبند)
قال اللّٰہ تعالیٰ: {مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنْ بَحِیْرَۃٍ وَلَا سَآئِبَۃٍ وَلَا وَصِیْلَۃٍ وَلَا حَامٍ وَلَکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلٰی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَاَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ} [المائدۃ: ۱۰۳]
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مرَّ علی صبرۃٍ من طعام طعام فأدخل یدہ فیہا فنالت أصابعہ بللاً فقال: یا صاحب الطعام ما ہٰذا؟ قال: أصابتہ الماء یا رسول اللّٰہ! قال: أفلا جعلتہ فوق الطعام حتی یراہ الناس، ثم قال: من غش فلیس منا۔ (سنن الترمذي / باب ما جاء في کراہیۃ الغش في البیوع ۱؍۲۴۵)
عن أبي حرۃ الرقاشي عن عمہ رضي اللّٰہ عنہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لا یحل مال إمرء مسلم إلا بطیب نفس منہ۔ (مسند أحمد ۵؍۷۲، شعب الإیمان للبیہقي ۲؍۷۶۹، مشکاۃ المصابیح ۲۵۵، مرقاۃ المفاتیح ۳؍۳۵۰)
عن أبي ہریرۃ رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: من اشتری سرقۃ، وہو یعلم أنہا سرقۃ فقد اشترک في عارہا وإثمہا۔ (شعب الإیمان للبیہقي رقم: ۵۵۰۰، الترغیب والترہیب مکمل ۳۹۳ رقم: ۲۶۸۴ بیت الأفکار الدولیۃ، فیض القدیر رقم: ۸۴۴۳)
وشرط المعقود علیہ ستۃ، وکون الملک للبائع فیما یبیع لنفسہ۔ (شامي، أول کتاب البیوع / مطلب: شرائط البیع أنواع أربعۃ ۴؍۵۰۵ کراچی، ۷؍۱۵ زکریا)
وما نقل عن بعض الحنفیۃ من أن الحرام لا یتعدی زمتین، سألت عنہ الشہاب بن الشلبي فقال: ہو محمول علی ما إذا لم یعلم بذٰلک، أما لو رأی المکاس مثلا یأخذ من أحد شیئا من المکس ثم یعطیہ آخر ثم یأخذ من ذٰلک الآخر فہو حرام۔ (شامي / باب البیع الفاسد، مطلب: الحرمۃ تتعد ۵؍۹۸ دار الفکر بیروت، ۷؍۳۰۱ زکریا)