الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
مالک مکان خالی کرنے کا مطالبہ کرے، تو معتدہ عدت کہاں گذارے؟
سوال(۵۹۲):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: اگر مکان کرایہ کا ہے اور مکان مالک مکان خالی کرانے کے لئے دباؤ ڈال رہا ہے، تو پھر عدت کہاں گذاری جائے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ایسی صورت میں عورت قریبی مامون جگہ میں عدت گذار سکتی ہے۔
وتعتدان أي معتدۃ طلاق وموت في بیت وجبت فیہ، ولا یخرجان منہ إلا أن تخرج أو ینہدم المنزل أو تخاف إنہدامہ أو تلف مالہا أو لا تجد کراء البیت ونحو ذٰلک من الضرورات، فتخرج لأقرب موضع إلیہ۔ (الدر المختار مع الشامي، باب العدۃ / فصل في الحداد ۵؍۲۲۵ زکریا، ۳؍۵۳۶ کراچی، الہدایۃ ۲؍۴۲۸-۴۲۹ تھانوي دیوبند، مجمع الأنہر ۲؍۱۵۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱؍۳؍۱۴۲۱ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
حلالہ میں شوہرِ ثانی کے طلاق دینے کے بعد شوہرِ اول کےگھر عدت گذارنا؟
سوال(۵۹۳):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: حلالہ کی صورت میں شوہرِ ثانی کی طلاق کے بعد کی عدت شوہرِ اول کے گھر گذار سکتی ہے یانہیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جب شوہر بیوی کو تین طلاق دے دے، تو عدت کا خرچہ اور اُس کی رہائش کا انتظام کرنا اُسی شوہر کے ذمہ ہوتا ہے؛ لہٰذا عورت شوہر کے گھر پر رہ کر عدت گذار سکتی ہے، مگر اِس دوران شوہر کا اس گھر میں آنا جانا اور جس کمرہ میں عورت عدت گذارے اُس میں داخل ہونا ممنوع ہے؛ لہٰذا شوہر کو دوسری جگہ اپنی رہائشی کرلینی چاہئے، اور شوہرِ ثانی کی طلاق کے بعد عدت شوہرِ ثانی ہی کے گھر پر گذارنے کا حکم ہے؛ لیکن اگر شوہرِ اول اپنے گھر پر عدت گذارنے کے لئے اِصرار کرے اور کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو، تو اُس کی بھی گنجائش ہے۔
المعتدۃ عن طلاق تستحق النفقۃ والسکنی۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۵۵۷)
وتبیت في المنزل الذي طلقت فیہ۔ (شامي ۵؍۳۲۵ زکریا)
ولا بد من سترۃ بینہما في البائن۔ (الدر المختار مع الشامي ۵؍۲۲۶ زکریا)
ثم إن وقعت الفرقۃ بطلاق بائن أو ثلاث، لا بد من سترۃ بینہما، ثم لا بأس بہ؛ لأنہ معترف