عن عبداﷲ بن عمرو رضي اللّٰہ عنہ أن نبي اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہی عن الخمر والمیسر۔ (سنن أبي داؤد ۲؍۵۱۹)
عن جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ قال: لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم آکل الربوا ومؤکلہ وکاتبہ وشاہدیہ، وقال: ہم سواء۔ (صحیح مسلم ۲؍۷۲ رقم: ۱۵۹۸، سنن الترمذي ۱؍۲۲۹ رقم: ۱۲۰۶، مشکاۃ المصابیح، البیوع / باب الربا ۲۴۴، مرقاۃ المفاتیح ۶؍۴۳ رقم: ۲۸۰۷ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
وسمی القمار قماراً؛ لأن کل واحد من المقامرین، من یجوز أن یذہب مالہ إلی صاحبہ، ویجوز أن یستفید مال صاحبہ وہو حرام بالنص۔ (شامي، کتاب الحظر والإباحۃ / باب في الاستبراء ۹؍۵۷۷ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۴؍۵؍۱۴۳۰ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اﷲ عنہ
مروجہ لاٹری اور اس کی شکلیں
سوال(۱۸۵):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: لاٹری جائز ہے یا ناجائز اور اس کی کیا کیا شکلیں ہیں؟ اور کون کون سی جائز ہیں اور کون سی ناجائز؟ مثلاً ہمارے یہاں لاٹری کی ایک شکل یہ ہے کہ دس یا بیس آدمی ہر مہینہ دس دس یا پانچ پانچ ہزار روپیہ جمع کرتے ہیں، اور ان کا جو مکھیا یعنی جس کے یہاں لاٹری ڈالی جاتی ہے، وہ پہلی لاٹری خود لیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ تھوڑی رقم کے بدلے بڑی رقم کا مالک بن جاتا ہے، پھر ہر مہینہ باقی لوگوں کے نام پرچی ڈالی جاتی ہے، جس کا نام پہلی مرتبہ آتا ہے، پھر پوری رقم وہ لے لیتا ہے اور باقی لوگوں کو اپنی پرچی کا انتظار کرنا پڑتا ہے، حالاںکہ آدمی ہر مہینہ مذکورہ رقم جمع کراتا ہے، یعنی جن کا نام آچکا وہ بھی، پھر بعض لوگ وقت پر پیسے جمع نہ کرانے پر پینالٹی کی قید بھی لگاتے ہیں، کئی مہینہ گذرنے کے بعد بھی اگر کسی کا نام نہیں آیا اور اس کو شدید ضرورت بھی پیش آگئی ،تو بھی نام نہ آنے سے