ہے تو کہتے ہیں کہ حکومت بھی تو ہمارے ساتھ زیادتی کرتی رہتی ہے، تو کیا اُن کی یہ دلیل درست ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:میٹر بند کرکے بجلی مفت استعمال کرنا یا میٹر کی ریڈنگ پیچھے کرنا اور اُس چوری کی بجلی سے موٹر چلاکر پانی مہیا کرنا یہ سب ناجائز ہے۔
لا یجوز لأحد من المسلمین أخذ مال أحد بغیر سبب شرعي۔ (البحر الرائق، کتاب السیر / فصل في التعزیر ۵؍۶۸ زکریا، الفتاویٰ الہندیۃ، کتاب السیر / فصل في التعزیر ۲؍۱۶۷ زکریا)
البتہ اس بجلی سے حاصل شدہ پانی سے وضو یا غسل کرکے جو نماز پڑھی جائے گی وہ ادا ہوجائے گی، اس کا اعادہ ضروری نہیں ہے، اور یہ ذمہ دارانِ مسجد پر ضروری ہوگا کہ وہ زائد خرچ شدہ بجلی کی رقم محکمہ بجلی کو ادا کریں، ورنہ وہ خدا کے یہاں جواب دہ ہوںگے، یہ عذر شرعاً معتبر نہیں کہ چوںکہ حکومت زیادتی کرتی ہے؛ اس لئے ہم بھی زیادتی کریں؛ اس لئے کہ اولاً یہ طے کرنا ہوگا کہ حکومت نے مسجد اور اہل مسجد کے ساتھ کیا اور کتنی زیادتی کی ہے؟ پھر یہ دیکھا جائے گا کہ مسجد نے بجلی چوری کرکے جو زیادتی کی ہے، وہ حکومت کی زیادتی سے کم ہے یا زیادہ، یا برابر ہے؟ اس کے بغیر زیادتی لینے کا دعویٰ غیر معتبر ہے۔
نہر مغصوب، فجاء إنسان فأراد التوضي أو الشرب منہ، إن لم یحول الغاصب النہر عن موضعہ جاز؛ لأن الناس شرکاء في الماء، وإن حول النہر عن موضعہ یکرہ؛ لأنہ انتفاع بعین ملک الغیر، فکان مکروہًا کالصلاۃ في الأرض المغصوبۃ۔ (الفتاویٰ الولوالجیۃ، کتاب الغصب / الفصل الثاني ۲؍۴۰۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۵؍۳؍۱۴۱۹ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ