یتعلق بالشرکۃ في الضحایا ۵؍۳۰۴)
ولو نوی بعض الشرکاء الأضحیۃ، وبعضہم ہدی المتعۃ، وبعضہم ہدی القرآن، وبعضہم جزاء الصید، وبعضہم دم العقیقۃ جاز عن الکل في ظاہر الروایۃ، عن محمد في النوادر کذٰلک، وعن أبي یوسف رحمہ اللّٰہ في الأمالي: أنہ قال: الأفضل أن یکون الکل من جنس واحد، وإن کان مختلفًا، وکل واحد متقرب إلی اللّٰہ [جاز] وعن أبي حنیفۃ رحمہ اللّٰہ أنہ قال: أکرہ ذٰلک فإن فعلوا جاز۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ، کتاب الأضحیۃ / الفصل السابع فیما یتعلق بالشرکۃ في الضحایا ۱۷؍۴۵۲ رقم: ۲۷۸۰۳ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۲۳؍۱۲؍۱۴۱۳ھ
نذر کے جانور کی قربانی میں کسی دوسرے کو شریک کرنا
سوال(۱۳۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید کا ایک بڑا جانور (مثلاً گائے بھینس وغیرہ) بیمار تھا، زید نے نذر مانی کہ اگر میرا جانور اچھا ہوگیا تو اُس کی قربانی کروںگا، بفضلہ تعالیٰ جانور صحت مند ہوگیا، اَب زید پر اس جانور کی قربانی واجب ہوگئی؛ لہٰذا کچھ دیگر لوگ بھی اِس میں شریک ہونا چاہتے ہیں، تو کیا بنیتِ قربانی یہ دیگر حضرات شریک ہوسکتے ہیں یا پورا جانور اپنی طرف سے ذبح کیا جائے؟ شرعاً جو حکم ہو مطلع فرمائیں۔
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: صورتِ مسئولہ میں زید پر پورے جانور کی قربانی کرنا واجب ہے، اُس میں کسی دوسرے کے شریک ہونے کی گنجائش نہیں ہے۔
قال اللّٰہ تعالیٰ: {وَلْیُوْفُوْا نُذُوْرَہُمْ} [الحج، جزء آیت: ۲۹]
عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: … من نذر نذرًا أطاقہ فلیفِ بہ۔ (سنن أبي داؤد، کتاب الأیمان والنذور / باب