قرآن کی آیت لکھے ہوئے کاغذ کو لے کر بیت الخلاء جانا؟
سوال(۳۶):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: ایسی ڈائری یا کاغذ جس میں قرآنِ کریم کی آیت یا حدیث شریف لکھی ہوئی ہو اور وہ ڈائری یا کاغذ جیب میں چھپی ہوئی ہو، تو اُس کو لے کر بیت الخلاء میں جانا کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: جس کاغذ میں قرآن یا حدیث لکھی ہوئی ہو اور وہ مستور ہو ظاہر نہ ہو، اِس حالت میں بیت الخلاء میں جانے کی گنجائش ہے۔
ثم محل الکراہۃ إن لم یکن مستورًا؛ فإن کان في جیبہ، فإنہ حینئذ لا بأس بہ۔ (طحطاوي علی مراقي الفلاح ۵۴ المکتبۃ الأشرفیۃ)
إن التعویذ لو کان مشتملاً علی القراٰن وغیرہ ویکون مستورًا، ففي الذہاب بہ في الخلاء بعض توسع۔ (العرف الشذي ۱؍۳۰۵)
ولکنہ یجعلہ في کمہ إن دخل الخلاء وفي یمینہ إذا استنجی۔ (الموسوعۃ الفقہیۃ ۱۱؍۲۹ بیروت، الدر المنتقی ۴؍۱۹۷ دیوبند) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۶؍۶؍۱۴۳۳ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
جس موبائل کے ڈیجیٹل چپ میں قرآن ہو اُسے لے کر بیت الخلاء میں جانا؟
سوال(۳۷):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: جس موبائل میں قرآنِ پاک چل رہا ہو، اور اُوڈیو ویڈیو، ٹیپ وغیرہ سب موبائل میں ہے، اور اس میں گانے اور تصاویر کا نظم بھی ہے، اُس کو جیب میں بیت الخلاء میں رکھنا ہوتا ہے، جیسے بڑے شہروں میں گھر سے دور نکلے، مثلاً باندرہ سے چرچ گیٹ بمبئی آنا ہوا ہے، تو کیا اُس کو بیت الخلاء میں لے جانا، اور اُس سے قرآن پڑھنا سننا جائز ہے، جب کہ اُس موبائل میں گانے اور عریاں تصویریں بھی ہوتی ہیں؟