گنہگار ہوں گے، یا صرف معالج یا صرف مریض؟ نیز ہومیوپیتھک دواؤں کا استعمال کرنا درست ہے یا نہیں، جب کہ اُن میں اِسپرٹ ملا رہتا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: الکحل اور اِسپرٹ کے بارے میں جب تک اِس کا یقین نہ ہوجائے کہ یہ اسپرٹ اور الکحل اشیاء ثلاثہ: انگور، کشمش اور کھجور ہی سے بنی ہے، اُس وقت تک برائے علاج ایسی اسپرٹ سے آمیز کی ہوئی دواؤں کے استعمال کی گنجائش ہے، بشرطیکہ اُن میں نشہ نہ ہو، اور ایسی صورت میں اُن دواؤں کے استعمال سے مریض اور معالج کوئی گنہگار نہ ہوگا۔ (مستفاد: امداد الفتاویٰ ۴؍۲۰۹، فتاویٰ رحیمیہ ۲؍۲۲۹ -۲۳۱، کفایت المفتی ۹؍۱۳۷)
وإن معظم الکحول التي تستعمل الیوم في الأدویۃ والعطور وغیرہا لا تتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول وغیرہ، کما ذکرنا في باب بیع الخمر من کتاب البیوع، وحینئذٍ ہناک فسحۃ في الأخذ بقول أبي حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالیٰ عند عموم البلویٰ، واللّٰہ سبحانہ أعلم۔ (تکملۃ فتح الملہم، کتاب الأشربۃ / حکم الکحول المسکرۃ ۳؍۶۰۸ مکتبۃ دار العلوم کراچی) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۱؍۱؍۱۴۱۳ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
کھانسی کی دوائی جس میں ۲۰؍فیصد الکحل ملی ہو کیا حکم ہے؟
سوال(۶۴۹):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کھانسی کی دوا جس میں الکحل کی ۲۰؍فیصد سے زیادہ ملاوٹ ہوتی ہے، کیا اُس دوا کا استعمال حرام ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: ضرورت مند کے لئے ایسی دوا کے استعمال کی گنجائش ہے، ہاں اگر یہ یقین ہوجائے کہ اُس دوا میں حرام شئ