باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر آپ کسی نمازی کے بالکل سامنے بیٹھے ہیں، تو اگر اپنی جگہ سے ہٹ جائیں اِس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیوںکہ اس میں گزرنا نہیں پایا گیا۔
أن المرور بین یدي المصلي مکروہ، والمار آثم۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۲؍۲۸۴ رقم: ۲۴۳۱ زکریا، شامي ۲؍۴۰۳ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۲۲؍۷؍۱۴۳۶ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
رومال کو سترہ بنانا؟
سوال(۸۱):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نمازی کے سامنے سے گذرتے وقت اپنے رومال کو سترہ بنانا اور ساتھ ہی اسی کو لے کر چلے جانا کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: چلتے چلتے رومال کو لٹکانے سے سترہ کافی نہ ہوگا؛ اس لئے کہ یہاں سترہ اپنی ذات کے اعتبار سے حائل نہیں بن رہا ہے؛ بلکہ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی شخص اپنے ہاتھ کو لٹکا کر اسے سترہ بنانے کی کوشش کرے، تو ظاہر ہے کہ یہ معتبر نہ ہوگا۔
أصل السترۃ أنہ مستحبٌ، والثاني: أن السنۃ فیہا الغرز۔ والثالث: ینبغي أن یکون مقدار طولہا زراعًا، وینبغي أن یکون في غلظ الإصباع، ہٰکذا ذکرہ الشیخ شمس الأئمۃ السرخسي۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ، کتاب الصلاۃ / مسائل السترۃ ۲؍۲۸۶ رقم: ۲۴۴۰ زکریا، المحیط البرہاني ۲؍۲۱۶ رقم: ۱۵۹۹)
المستفاد: إذا لم یکن معہ سترۃ ومعہ ثوب أو کتاب مثلا ہل یکفی وضعہ ین یدیہ؟ والظاہر نعم، کما یؤخذ من تعلیل ابن الہمام، وکذا لو بسط ثوبہ وصلی علیہ، ثم المفہوم من کلامہم أنہ عند إمکان الغرز لا یکفی الوضع، وعند إمکان الوضع لا یکفي الخط۔ (شامي ۲؍۴۰۳ زکریا)
الظاہر من اشتراطہم النصب أو الوضع أو الخط علی خلاف أن ما عدا ہذہ الثلاث لا یکفي لإقامۃ السنۃ، وإن کان تعلیل ابن الہمام المار یفید