ظرف اور اسمِ تفضیل۔ جیسے: عَالِمٌ، مَعْلُوْمٌ، مِفْتَاحٌ، مَسْجِدٌ اور أَکْبَرُ۔
تیسرا سبق
مرکب وہ بات ہے جو دو یا زیادہ کلموں سے مل کر بنے۔
مرکب کی دو قسمیں ہیں: مرکب مفید اور مرکب غیر مفید۔
مرکب مفید وہ بات ہے جس سے سننے والے کو کسی واقعہ کی خبر یا کسی بات کی طلب معلوم ہو۔ جیسے: حَسَنٌ حَاضِرٌ(حسن موجود ہے)، اِیْتِ بِالْمَائِ (پانی لاؤ)۔ پہلے جملہ سے سامع کو حسن کے موجود ہونے کی اطلاع اور دوسرے جملہ سے پانی کی خواہش معلوم ہوتی ہے۔
فائدہ: مرکب مفید کو جملہ اور کلام بھی کہتے ہیں۔
مرکب غیر مفید وہ بات ہے جس سے سننے والے کو کوئی خبر یا طلب معلوم نہ ہو۔ جیسے: قَلَمُ سَعِیْدٍ (سعید کا پین)۔
جملہ دو طرح کا ہوتا ہے : جملہ خبریہ اور جملہ انشائیہ۔
جملہ خبریہ وہ جملہ ہے جس کے بولنے والے کو سچا یا جھوٹا کہہ سکیں۔ اور یہ دو قسم پر ہے: جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ۔
جملہ اسمیہ وہ جملہ ہے جس کا پہلا جزو اسم ہو اور دوسرا جزو خواہ اسم ہو یا فعل۔ جیسے: زَیْدٌ قَائِمٌ اور زَیْدٌ قَامَ۔
جملہ فعلیہ وہ جملہ ہے جس کا پہلا جزو فعل ہو۔ جیسے: قَامَ زَیْدٌ۔