بنتی ہے۔ جیسے: رَجُلٌ کی جمع رِجَالٌ۔
جمع سالم وہ جمع ہے جس میں واحد کا وزن باقی رہے، اس کی پھر دو قسمیں ہیں: جمع مذکر سالم اور جمع مؤنث سالم۔
جمع مذکر سالم بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ واحد کے آخر میں حالتِ رفعی میں و ما قبل مضموم اور ن مفتوح ، اور حالتِ نصبی وجری میں ی ما قبل مکسور اور ن مفتوح بڑھائی جائے۔ جیسے: مُسْلِمٌ کی جمع مُسْلِمُوْنَ اور مُسْلِمِیْنَ۔
جمع مؤنث سالم بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ واحد کے آخر میں الف اور لمبی ت بڑھائی جائے۔ جیسے: مُسْلِمَۃٌ کی جمع مُسْلِمَاتٌ۔
نوٹ: جمع بناتے وقت واحد میں سے تانیث کی علامت گول ۃ کو حذف کردیں گے۔
پانچواں سبق
جنس کے اعتبار سے اسم کی دو قسمیں ہیں: مذکر اور مؤنث۔
مذکر وہ اسم ہے جس میں تانیث کی کوئی علامت نہ پائی جاتی ہو۔ جیسے: رَجُلٌ، فَرَسٌ، کِتَابٌ۔
مؤنث وہ اسم ہے جس میں تانیث کی کوئی علامت پائی جاتی ہو ۔ جیسے: طَلْحَۃُ۔
تانیث کی تین علامتیں ہیں:
۱۔ گول ۃ۔ جیسے: طَلْحَۃُ، قَلَنْسُوَۃُ۔ ۲۔ الف مقصورہ۔1 جیسے: صُغْرٰی، کُبْرٰی۔
۳۔ الف ممدودہ ۔ 2 جیسے: حَمْرَائُ ، بَیْضَائُ۔
اور علامت پائے جانے کے اعتبار سے مؤنث کی دوقسمیں ہیں: مؤنثِ قیاسی اور مؤنثِ