یا ي ما قبل ساکن ہو۔ جیسے: دَلْوٌ، ظَبْيٌ۔
دوسری صورت: رفع پیش سے اور نصب وجر زبر سے۔ یہ اعراب غیر منصرف کا ہے۔ غیر منصرف پر کسرہ اور تنوین نہیں آتے۔ جیسے: ہٰذَا عُمَرُ، رَأَیْتُ عُمَرَ، مَرَرْتُ بِعُمَرَ۔
تیسری صورت: رفع پیش سے اور نصب و جر زیر سے۔ یہ اعراب جمع مؤنث سالم کا ہے۔ جیسے: ہٰذِہٖ مُسْلِمَاتٌ، رَأَیْتُ مُسْلِمَاتٍ، مَرَرْتُ بِمُسْلِمَاتٍ۔
الدرس الرابع عشر
اعراب بالحروف کی تین صورتیں
پہلی صورت: رفع وسے، نصب الف سے اور جر ي سے۔ یہ اعراب چھ اسموں کا ہے جو یہ ہیں: أَبٌ، أَخٌ، حَمٌ (جیٹھ، دیور)، ہَنٌ (مرد یا عورت کی آگے کی شرم گاہ)، فَمٌ2 (منہ)، ذُو (والا)۔ ان چھ اسموں میں جب تین3 شرطیں پائی جائیں تو مذکورہ اعراب آئے گا۔
پہلی شرط: وہ مفرد ہوں تثنیہ، جمع نہ ہوں۔
دوسری شرط: وہ مکبّرہ ہوں، مصغّرہ نہ ہوں۔
تیسری شرط: وہ یائے متکلم کے علاوہ کسی اور کی طرف مضاف ہوں۔
جیسے: ہٰذَا أَبُوْکَِ / أَخُوْکَِ / حَمُوْکِ1 / ہَنُوْکَِ / فُوْکَِ / ذُوْ مَالٍ، رَأَیْتُ أَبَاکَِ / أَخَاکَِ / حَمَاکِ / ہَنَاکَِ/ فَاکَِ / ذَا مَالٍ، مَرَرْتُ بِأَبِیْکَِ / بِأَخِیْکَِ / بِحَمِیْکِ / بِھَنِیْکَِ/ بِفِیْکَِ/ بِذِيْ مَالٍ۔