بدل الغلط ہے۔
الدَّرسُ الخامسُ والأربعون
معطوف کا بیان
۴۔ معطوف وہ دوسرا اسم ہے جو حرف عطف کے بعد آئے اور پہلے اسم کے ساتھ حکم میں شریک ہو۔ پہلا اسم معطوف علیہ کہلاتا ہے۔ جیسے: جَائَ زَیْدٌ وَعَمرٌو میں آنے کا جو حکم زید پر لگا ہے وہی عمرو پر بھی ہے۔
قاعدہ: ضمیر مرفوع متصل پر عطف کرنے کے لیے فصل ضروری ہے، خواہ ضمیر منفصل کا ہو یا کسی اور چیز کا۔ جیسے: ضَرَبْتُ أَنَا وَزَیْدٌ اور ضَرَبْتُ الْیَوْمَ وَزَیْدٌ۔
قاعدہ: ضمیر مجرور پر عطف کرنے کے لیے حرف جر کا اعادہ ضروری ہے۔ جیسے: مَرَرْتُ بِکَ وَبِزَیْدٍ۔
قاعدہ: اگر ضمیر مضاف کی وجہ سے مجرور ہو تو عطف کرتے وقت مضاف کا اعادہ ضروری ہے۔ جیسے: نَزَلَ زَیْدٌ فِيْ بَیْتِيْ وَبَیْتِ خَالِدٍ۔
عطف بیان کا بیان
۵۔ عطف بیان وہ دوسرا اسم ہے جو صفت نہ ہو اور پہلے اسم کی وضاحت کرے۔ جیسے: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ مُحَمَّدٌ w۔ اس میں نام پاک محمد عطف بیان ہے اس نے أبو القاسم کی وضاحت کی ہے۔