ثلاثی مزید فیہ ملحق بہ اِحْرَنْجَمَ کے دو باب ہیں۔
۱۔ باب اِفْعِنْلَال۔ 2 جیسے: اَلاِْقْعِنْسَاسٌ(سینہ نکلنا اور پیٹھ دھنسنا)۔
۲۔ اِفْعِنْلَائٌ۔ جیسے: اَلْاِسْلِنْقَائُ (چت لیٹنا)۔
پینتیسواں سبق
ہفت اقسام کا بیان
! صحیح وہ کلمہ ہے جس کے حروفِ اصلی میں ہمزہ، حرف ِعلت 3 اور دو حرف ایک جنس کے نہ ہوں۔ جیسے: ضَرَبَ، بَعْثَرَ، رَجُلٌ، جَعْفَرٌ۔
@ مہموز وہ کلمہ ہے جس کے حروفِ اصلی میں ہمزہ ہو۔ جیسے: أَمَرَ، سَأَلَ،قرأ۔
اگرفا کلمہ کی جگہ ہمزہ ہو تو مہموز الفاء، عین کلمہ کی جگہ ہو تو مہموز العین اور لام کلمہ کی جگہ ہو تو مہموز اللام کہتے ہیں۔
#مُعْتَل وہ کلمہ ہے جس کے حروف اصلی میں حرف ِعلت ہو، پھر اگر ایک حرفِ علت ہے تو اس کی تین قسمیں ہیں:
۱۔ مثال وہ معتل ہے جس کے فاکلمہ کی جگہ حرف ِعلت ہو۔ جیسے: وَعَدَ، وَرْدٌ۔
۲۔ اجوف وہ معتل ہے جس کے عین کلمہ کی جگہ حرف ِعلت ہو۔جیسے: قَالَ، لَیْلٌ۔
۳۔ ناقص وہ معتل ہے جس کے لام کلمہ کی جگہ حرف ِعلت ہو۔ جیسے: رَمٰی، ظَبْيٌ۔
۳۔ لفیف وہ کلمہ ہے جس میں دو حرف ِعلت ہوں۔ اور اس کی دو قسمیں ہیں:
(الف) لفیف مفروق وہ لفیف ہے جس میں دو حرف ِعلت جُدا ہوں۔ جیسے: وَلِيَ، وَحْيٌ۔