نیز جو لوگ مانگ مانگ کر گزر کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں ان میں سے تقویٰ و عفت و شجاعت اور دیگر اخلاقِ فاضلہ ضائع ہوجاتے ہیں، ان کی ہمتیں بہت پست ہوجاتی ہیں، محنت و کسب و تحصیلِ کمالات سے وہ جی چراتے ہیں، عیاشی ان کا پیشہ ہوجاتا ہے، ترفہ و آسایش وآرام طلبی ان کے رگ و ریشہ میں سرایت کر جاتی ہے۔ پس ان اُمور کو مدِ نظر رکھ کر بھی آں حضرت ﷺ کو خوف دامن گیر ہوا کہ مبادا میری آل لوگوں کے خیرات و صدقات پر تکیہ لگا کر تحصیلِ کمالات میں سست نہ ہوجاوے۔ اور واقعی یہ ایسے اسباب ہیں جو نفوسِ نفیسہ کی حالت کے برخلاف ہیں، اس لیے آں حضرت ﷺ نے ان پر صدقات کو منع فرمایا تاکہ وہ ایسے اُمورِ دنیہ۔ّ کے عادی ہونے سے سخت دل نہ بنیں اور ایسے رزقِ مذلت کے طالب بن کر ذلیل و خوار نہ ہوجاویں۔

تمت

جلد اوّل تمام ہوئی، دوسری جلدکتاب الصوم سے اور تیسری جلد کتاب البیوع
سے آتی ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ فقط
ربیع الثانی ۱۳۳۵ھ