و مرغب فی النکاح ہیں۔ پس اس عورت کو وہ اُمور مباح ہوئے جو خاوند والی عورت کے لیے مباح ہوا کرتے ہیں۔ پس یہ ممانعت اور اباحت نہایت
حسن و مناسبت پر واقع ہوئی ہے، تمام عالم کی عقلیں بھی اس سے بہتر تجویز نہیں کرسکتیں۔

عدتِ طلاق ایک حیض سے زیادہ ہونے کی وجہ:
سوال: جب کہ رحم کے خالی یا حامل ہونے کا علم ایک ہی حیض سے معلوم ہوسکتا تھا تو پھر طویل عدت مقرر ہونے کی کیا وجہ؟
جواب: اس کی وجہ ان مصالحِ الٰہی سے معلو م ہوسکتی ہے جن کے لیے یہ مشروع کی گئی ہے۔ عدت کے مشروع ہونے میں چند مصلحتیں ہیں، جس کی تفصیل ذیل میں ہے:
۱۔ رحم کے خالی ہونے کا علم حاصل کرنا، تاکہ دو شخصوں کا نطفہ مل جانے سے اختلاطِ نسب ہو کر باعثِ فساد نہ ہو۔ عدم تقررِ عدت کی وجہ سے ایسے فساد اور بگاڑ ہوتے جن کو شریعت و حکمتِ الٰہی مانع ہے۔
۲۔ تقرر عدت کی وجہ عقدِ نکاح کی بزرگی و رفع قدر و اظہار شرافت ہے۔
۳۔ طلاق دینے والے کے لیے لمبا زمانہ مقرر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مرد طلاق دینے سے نادم ہو کر عورت کی طرف رجوع کرسکے۔
۴۔ تقررِ عدت کی وجہ خاوند کے حق ادا کرنا اور خاوند کے فوت ہوجانے سے تأسف کا
اظہار ہے اور یہ امر زینت اور آراستگی کے ترک کرنے سے ہوتا ہے۔
اس سے واضح ہوا کہ عدت محض براء تِ رحم کا علم حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ یہ امر بھی عدت کے بعض مصالح و حکمتوں میں سے ہے۔ باقی اور مصالح بھی ہیں جو ایک حیض کی عدت میں حاصل نہیں ہوسکتیں۔

اقسامِ عدت:
۱۔ حاملہ وضع حمل تک۔
۲۔ عدتِ بیوہ بمرگِ شوہر چار ماہ دس دن۔