۳۔ عدتِ مطلقہ تین طہر۔
۴۔ عدتِ آیسہ یا صغیرہ۔ جس کو زیادہ عمر کے سبب یا کم عمری کے سبب حیض نہ آتا ہو تین ماہ ہے۔

عدت بیوہ کی دوسری عدتوں سے مختلف ہونے کی وجہ: عدت بیوہ کی چار ماہ اور دس دن مقرر ہے خواہ دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ پس ایک گروہ کا خیال یہ ہے کہ عدت کا حکم محض اطاعت کے لیے ہے، اس میں عقل کو دخل نہیں ہے، مگر یہ بات اس وجہ سے باطل ہے اگر ایسا ہوتا تو یہ عبادتِ محضہ ہوتی، حالاںکہ عدت محض عبادت نہیں ہے، کیوںکہ عدت چھوٹی اور بڑی اور عاقلہ اور دیوانی، مسلمہ و ذمیہ سب کے حق میں لازمی ہے اور یہ سب مکلف نہیں ہیں۔ نیز اس میں نیت کی ضرورت نہیں اور عبادت میں نیت ضروری ہے، پس لا محالہ اس میں مصالح ضرور ہیں اوراس کے ساتھ ہی جب اس میں اطاعتِ الٰہیہ کا قصد ہو بشرطِ ایمان معنی عبادت سے بھی خالی نہیں۔ سو بعض مصالح تو نفسِ عدم میں ہیں جن کا حاصل رعایت حقوقِ زوجِ اوّل و اولاد و رعایت حقِ شوہر ثانی۔ تفصیل عن قریب آتی ہے۔ پس پہلے خاوند کی رعایت تو اس میں ایک یہ ہے کہ دونوں میں جو تعلق نکاح کا تھااس کا احترام اور وقعت باقی رہے۔ اور دوسری رعایت یہ ہے کہ اس میں دوامی حقوق اور معاہدۂ مصاحبت کی کسی قدر وفاداری کا اظہار ہے۔ اور تیسری یہ ہے کہ اس سے ظاہر ہوسکے اور نسب میں بھی اشتباہ نہیں ہوتا اور حقِ خاوند کی حرمت و عزت کا اس کی وفات کے بعد قابلِ لحاظ ہونا۔ اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ نبی ﷺ کی عزت وحرمت کے حقوق کی وجہ سے آپ کی وفات کے بعد آپ کی عورتوں سے اور لوگوں پر مدام کے لیے نکاح کرنا حرام ہوگیا۔ علاوہ آپ کی حرمت کے اس میں یہ بھی حکمت ہے کہ آپ کی دنیا والی عورتیں آخرت میں بھی آپ کی ازواج مطہرات ہوں گی، اس لیے بھی آپ کے بعد کسی کو ان سے نکاح کرنا حلال نہیں ٹھہرا، مگر یہ امر دوسروں کے لیے نہیں ہے، کیوںکہ نہ اس قدر کسی شوہر کا احترام ہے اور نہ یہ حق ان کے حق میں معلوم ہے۔ پس اگر اس حالت میں خاوند کے مرنے سے عورت کو دوسرا نکاح کرنا حرام ہوتا تو اس کو سخت ضرر لاحق ہوتا۔ بہرحال نکاحِ ثانی تو حلال ہوا مگر کچھ احکام حافظ احترام شوہر مشروع ہونا چاہییں اور زمانہ جاہلیت میں اس احترام حقِ شوہر اور عزت عقدِ نکاح میں بہت مبالغہ کرتے تھے، سال بھر تک عورت دوسرا نکاح نہ کرتی اور نہ گھر سے باہر نکلنے کی مجاز ہوتی تھی اور اس میں بھی حرج تھا، اس لیے خدا تعالیٰ نے اس مبالغہ میں اپنی شریعتِ حقہ کے ذریعہ سے جو کہ محض نعمت و رحمت و مصلحت و حکمت پر مبنی ہے تخفیف کردیا اور بجائے اس کے چار مہینے اور دس دن کی عدت مقرر کی، جو سراسر حکمت ومصلحت پر مبنی ہے، کیوںکہ اس مدت میں رحم میں بچہ کا ہونا یا نہ ہونا معلوم ہوسکتا ہے، کیوںکہ چالیس دن تک رحم میں نطفہ ہوتا ہے، پھر چالیس دن