نحمدہ ونصلي علٰی رسولہ الکریم

شیخ العرب و العجم حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمہ اللہ کے دو مضمون بعنوان ’’عظمتِ وحی‘‘ اور ’’لا إیمان لمن لا أمانۃ لہ‘‘ تقریباً بیس بائیس سال گزرے کہ شایع ہوئے تھے۔ علمی مجالس نے اُن کو خزائنِ علمی کی حیثیت سے قبول کیا تھا لیکن ان جواہر ِعلمی سے صرف وہی حضرات واقف ہوسکے جنھوں نے ان دونوں مضمونوں کو خود ملاحظہ فرمایا۔ اور چوںکہ ان مضمونوں کی کوئی مستقل اشاعت نہ ہوئی تھی اس لیے یہ انمول موتی زاویہ خمول میں پہنچنے کے قریب ہو رہے تھے۔
حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے متوسلین کی عموماً اور میری خصوصاً دلی تمنا تھی کہ ان کو نہایت آب و تاب کے ساتھ از سر ِنو شایع کیا جاوے۔ سو بحمدللہ یہ تمنا یوں پوری ہوئی کہ ایک صاحبِ خیر نے جو اپنے نام کو ظاہر کرنا پسند نہیں کرتے ہیں، اس کی طباعت کے اخراجات کو برداشت کیا اور اشاعت کی اجازت دی۔
میںنے اور حضرت شیخ الہند کے بعض کفش برداروں نے اس کی طباعت کے عملی اُمور انجام دیئے۔ مگر جس طرح طباعت اور کتابت کے اعلیٰ مدارج پر اس کو دیکھنے کی تمنا تھی وہ پوری نہ ہوئی، تاہم
حاجتِ مشاطہ نیست روئے دلارام را
ارادہ ہے کہ اس کی طباعتِ ثانیہ کو طباعتِ اولیٰ سے ہزار درجہ بہتر صورت میں لایا جاوے، واللہ الموفق۔
ننگِ اسلاف
حسین احمد غفرلہ