محترم حضراتِ اساتذۂ کرام

السلام علیکم!

طلباء اور طالبات کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اس طرح تربیت بھی ضروری ہے کہ وہ سچے مسلمان بن جائیں۔ نماز کا اہتمام اور دیگر تمام اسلامی فرائض پابندی سے پورے کریں۔ نیز والدین کی فرماںبرداری، رشتہ داروں سے اچھا سلوک ، ہرجائز وعدہ کو پورا کرنا اور امانت میں خیانت نہ کرنا ، ہر موقع پر انصاف کرنا، حرام سے بچنا، ہر مسلمان سے محبت کرنا، غریبوں اور بیماروں کی مدد کرنا اور تعلیم زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا اور ہر صورت میں ایمان داری سے کام کرنا جیسی اعلیٰ صفات بچوں میں پیدا ہوجائیں۔

دیباچہ

قرآنِ مجید سمجھ کر پڑھا جائے یابغیر سمجھے، اس کے ایک ایک حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآنِ پاک کے نزول کا اصل مقصد صرف اس کی تلاوت ہی نہیں، بلکہ اس کو سمجھنا، اور اس پر عمل کرنا بھی مقصد ہے۔ ہزاروں اور لاکھوں بچے، بچیاں،مرد وعورت قرآنِ پاک کی تعلیم توحاصل کرتے ہیں، لیکن اس کو سمجھتے کتنے ہیں؟ اس کا اندازہ آپ خود کرسکتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ عربی کی تعلیم اور دین کا مکمل فہم حاصل کئے بغیر قرآنِ مجید کو صحیح طور پر نہیں سمجھا جاسکتا ،لیکن کیا کوئی طریقہ ایسا ہوسکتا ہے کہ طلباء کو قرآن مجید کامقصد کچھ ایسے آسان طریقوں سے ان کے ذہن نشین کرادیا جائے کہ وہ اس مقدس کتاب (جس کو وہ روزانہ پڑھ رہے ہیں) کے مقصد سے بالکل بے تعلق نہ رہیں اور ان میں اس کو سمجھنے کا شعور بیدار کردیا جائے؟ اس مقصد کوحاصل کرنے کے لیے کافی عرصہ سے ایک تجویز ذہن میں پرورش پارہی تھی ، وہ یہ کہ بچوں کو قصے سننے کاشوق ہوتا ہے۔لہٰذا قرآن مجید کے بنیادی اُصول ، نبیوں کے آنے کے مقاصد اور ان کے قصے ،حضور سرور کائناتﷺکی زندگی اور دیگر ضروری اُمور کو آسان زبان اور قصوں کی صورت میں مرتب کر کے شائع کردیاجائے۔
استاد صاحبان روزانہ ایک عنوان بچوں کے سامنے قصے کی صورت میں بیان فرمائیں اور پھر بچوں سے بھی قصے کی صورت میں سنیں۔ اللہ کی ذات سے یہ اُمید ہے کہ مسلسل یہ طریقہ جاری رکھنے کے بعد یہ چیزیں بچوں کے دل ودماغ میں ذہن