الوضوء به لا شربه لحرمة لحمه الخ ۔[1]فقط۔
[1]الدر المختار مجتبائی باب المیاه ص ۳۵ ج۱ ۔۱۲ ظفیر
۔(فتاوی دارالعلوم دیوبند ج۱/۱۸۴-۱۸۵)
اور نجم الفتاوی میں ہے:
دریائی مینڈک کے کنویں میں گرنے سے کنواں ناپاک نہیں ہوتا بشرطیکہ اس پر ظاہری نجاست نہ لگی ہو، اور اگر اس پر نجاست لگی ہو تو کنواں ناپاک ہوجائے گا اور سارے پانی کا نکالنا ضروری ہوگا اور کنویں کے چشمہ دار ہونے کی صورت میں جب سارا پانی نکالنا ناممکن ہو، تو تین سوڈول نکال لیے جائیں تو وہ کنواں پاک ہوجائے گا۔
لما فی الهندیة (۱/۱۹):وإذا وجب نزح جمیع الماء ولم یمکن فراغها لکونها معینا ینزح مائتا دلو کذا فی التبیین وهذا أیسر کذا فی الاختیار شرح المختار والأصح أن یؤخذ بقول رجلین لهما بصارة فی أمر الماء فأی مقدار قالا إنه فی البئر ینزح ذلک القدر وهو أشبه بالفقه.
وفی الدر المختار(۱/۲۱۱): (إذا وقعت نجاسة )لیست بحیوان ولو مخففة أو قطرة بول أودم.......( ینزح کل مائها)۔
وفی الدر المختار(۱/۲۱4): (وإن تعذر) نزح کلها لکونها معینا (فبقدر مافیها) وقت ابتداء النزح قاله الحلبی (یؤخذ ذلک بقول رجلین عدلین لهما بصارة بالماء) به یفتی۔ وقیل یفتی بمأتين إلى ثلثمائة وهذا أیسر وذاک أحوط
۔ (نجم الفتاوی ج۲ /۱۴۸)
مردہ مینڈک کنویں سے نکلا مگر یہ معلوم نہیں کہ بری ہے یا بحر ی تو کیا کیا جائے ؟
سوال:مردہ مینڈک اگرچاہ سے نکلے تو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس میں دم سائل ہے یا نہیں ۔
دم سائل کی کیا نشانی ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس میں دم سائل ہے یا نہیں؟