بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقدمہ
از مؤلف ؒ

بعد حمدو صلوٰۃ احقر محمد عیسیٰ عرض رسا ہے کہ یہ رسالہ حضرت سیدی ومرشدی حکیم الامۃ سلطان المشایخ سراج السالکین زبدۃ العارفین مولانا اشرف علی صاحب تھانوی دامت برکاتہم کے آخری دس پندرہ سال کے مطبوعہ ’’مواعظِ حسنہ‘‘ و’’تربیت السالک‘‘ کے بیش بہا جواہرات سے اختصاراً ماخوذ ہے، نیز کہیں کہیں زبانی ارشادات کا بھی خلاصہ ہے۔
جامع کی غایت اس سے یہ ہے کہ جو لوگ فنِ سلوک کو حاصل کرنا چاہیں وہ مبادئی تصوف کو یعنی تصوف کے ضروری علوم ومسائل کو معلوم کرلیں جو بصیرت فی المقصود کے حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہیں، اور جو سالکین امورِ غیر اختیاریہ کے حصول میں حیران وپریشان ہو کر مایوس ہوگئے ہیں اور ترک رذائل کی حقیقت وماہیت نہ جاننے کی وجہ سے اس راہ کو بہت ہی مشکل اور دشوار گزار سمجھنے لگے ہوں ان کے لیے یہ رسالہ مشعلِ راہ کا کام دے اور ان کے ادراک کو تقویت دے کر ان کے تعطل کا ازالہ کرے، نیز اخلاقِ رذیلہ کا ازالہ و تعدیل کرکے اخلاقِ حمیدہ کی تحصیل وتکمیل کا رہبر ثابت ہو۔
’’تربیت السالک‘‘ اور ’’مواعظِ حسنہ‘‘ میں ان امور کے عجیب وغریب نسخے منتشر طور سے موجود تھے
مگر ان کے حجم کو دیکھ کر اس بات کا اندیشہ ہو اکہ جو طالبینِ فن زیادہ وقت نہیں صرف کرسکتے ان کو ان کی تلاش وجستجو میں دقت وپریشانی ہوگی، اس لیے بندہ احقر نے طالبین کی سہولت کیے لیے ان بیش بہانسخہ جات میں سے مجرب المجرب نسخوں کو یک جا کردیا ہے تاکہ وہ اس طریق میں مقصود وغیر مقصود، اختیاری وغیر اختیاری امور کو اچھی طرح جان لیں، جن کے جاننے اور مستحضر رکھنے سے سلوک کے اکثر وبیشتر عقبات طے ہوسکتے ہیں۔
احقر نے ا س رسالہ کو چار باب میں تقسیم کیا ہے:
باب اول: تعلیمات
جس میں تصوف کے مبادی یعنی ضروری علوم ومسائل ہیں جو بصیرت فی المقصود میں بے حد مؤید ہیں۔