دوبارہ توفیقِ طاعت دلیل قبول طاعت سابق کی ہے: ارشاد: جس طاعت کے ایک دفعہ کرنے کے بعد دوبارہ اس کی توفیق ہوجائے تو سمجھو کہ پہلی طاعت قبول ہوچکی، یہ علامت قبول ہے اور گویہ استنباط قطعی نہیں، مگر ظاہر عادۃ اللہ اور وسعتِ رحمت اسی کو مقتضی ہے۔ پس تغلیبِ رجا میں یہ بہت نافع ہے جو کہ شرعاً مامور بہ ہے لا یموت أحدکم إلا وہو یحسن الظن بہ۔ تم میں سے کسی کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ سے حسنِ ظن رکھتا ہو۔
اللہ کی یاد کو اپنامقصودِ اصلی بنالو: ارشاد: اللہ ورسول کا مقصود ہے کہ تم اللہ کی یاد کو اپنا اصلی کام بنالو اور سب کاموں کو تابع بناؤ۔ حدیث میں ہے: لا یزال لسانک رطبا من ذکر اللہ اگر زبان سے ہر وقت اللہ اللہ کرنا یاد نہ رہے تو تسبیح یاد میں رکھو اور ریا کا خوف نہ کرو۔ کیوں کہ ریا وہ ہے جو قصد وارادہ سے ہو، اور بلا قصد وسوسہ ریا ہے اور وسوسہ ریا ریا نہیں۔
ذکر ریائی ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ ہے جو پل صراط سے پار کردے گا: ارشاد: حضرت حاجی صاحب ؒ کی حکایت ہے کہ ان سے ایک شخص نے کہا کہ فلاں شخص ریا سے ذکر کرتا ہے، فرمایا: وہ تجھ سے اچھا ہے۔ اس کا یہی ذکر ریائی ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ بن کر اسے پل صراط سے پار کردے گا، اور تیرے پاس تو ٹمٹماتا ہوا چراغ بھی نہیں۔
مبتدی کو تکثیرِ ذکر اولی ہے تکثیر نوافل وکثرتِ تلاوت سے: ارشاد: آج کل مبتدی کو تکثیرِ نوافل سے یکسوئی حاصل نہیں ہوتی۔ کیوں کہ نماز میں متفرق افعال ہیں جن سے مبتدی کو تشتت ہوتاہے اور ذکر میں ایک ہی چیز ہے اس میں مبتدی کو جلدی یکسوئی حاصل ہوجاتی ہے۔ پس صوفیہ تکثیرِ ذکر کی تعلیم کرکے مبتدی کو تکثیرِ صلاۃ کے قابل بناتے ہیں چناںچہ انتہا میں بجائے ذکر وشغل کے تکثیرِ نوافل اور کثرتِ تلاوت رہ جاتاہے۔
ذکرِ حقیقی کا معیار: ارشاد: ذکرِ حقیقی اور ہے اور صورتِ ذکر اور ہے ذکرِ حقیقی سارے معاصی سے بچنے کو اور تمام اوامر کے بجا لانے کو مستلزم ہے۔
ذکرِ قلبی کی تحقیق: ارشاد: متأخرین صوفیہ نے محض ذکرِ قلبی تجویز کیا ہے وہ بہت اچھی چیز ہے مگر زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتا۔ بلکہ کچھ دیر کے بعد دل ادھر ادھر چلا جاتا ہے۔ اور ذاکر یہ سمجھتا ہے کہ میں ذکر میں مشغول ہوں۔ اس لیے میں یہ تجویز کرتا ہوںکہ ذکر لسان سے بھی کرنا چاہیے اور اسی میں توجہ قلبی رکھنا چاہیے اگر کچھ دیر میں ذکرِ قلبی نہ رہے گا، تو ذکرِ لسانی تو باقی رہے گا اور وقت ضائع نہ ہوگا۔ خصوصاً میری اس تحقیق کے بعد کہ جو عمل خالص نیت سے شروع ہو اس کی برکت وانوار مستمر رہتے ہیں، گو وہ بہت مستحضر نہ رہے اور گو توجہ باقی نہ رہے۔
ذکر کے درجات: ارشاد: ذکر کا ایک درجہ یہ ہے کہ اللہ کے نام کو یاد کرو۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ بواسطہ نام کے ذات کو یاد کرو۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ نام کا واسطہ بھی نہ رہے محض ذات کے ذکر پر قادر ہوجائے۔