بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

الحمد للّٰہ الذي ضرب مثلًا کلمۃً طیبۃً کشجرۃٍ طیبۃٍ أصلھا ثابت وفرعھا في السماء، تـؤتي أکلھا کل حینٍ بـإذن ربّھا، ویضرب اللّٰہ الأمثال للناس لعلھم یتذکرون، والصلاۃ والسلام علٰی رسولہ وخلیلہ وحبیبہ محمدٍ الذي جعل الإیمان بضعًا وسبعین شعبۃ، فأفضلھا قول لا إلٰـہ إلَّا اللّٰہ، وأدناھا إماطۃ الأذی عن الطریق، والحیاء شعبۃ من الإیمان۔ متفق علیہ، ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ علٰی عبادہ العلماء الصالحین الذین استنبطوا ھذہ الشعب من الکتاب والسنۃ، وعینواھا لعامۃ الأُمّۃ۔ جعلنا اللّٰہ تعالٰی من یقتحم ھذہ الشعاب، ویدخل تلک الأبواب، ورزقنا عندہ حسن مآب، ویسر لنا في یوم الحساب۔
جانناچاہیے کہ قرآنِ مجید کی آیتِ مرقومہ بالا سے مجملاً معلوم ہوتا ہے کہ ایمان میں کچھ اُصول اور کچھ فروع ہیں، اور حدیث ِ مذکور میں ان کا عدد بھی متعین فرما دیا گیا ہے، ۔ّستر (۷۰) سے کچھ زائد ہیں، اور ان کی تعیین و تفصیل کے پتا بتلانے کو اس کے تین شعبے: ایک ادنیٰ اور ایک اعلیٰ، ایک اوسط بھی فرما دیے گئے، تاکہ ۔ُعلمائے مستنبطین و مستخرجین شعبِ باقیہ کو خود اپنے ذہنِ خدا داد کی ۔ّقوت سے نکال کر دوسروںکو بتلا ویں۔ چناںچہ ۔ُعلمائے محدثین و محققین نے قرآن و حدیث میں غور کرکے ان سب شعبوں کو جمع کیا اور متعدد کتابیں اس بحث میں تصنیف فرمائیں۔ جزاھم اللّٰہ تعالٰی خیر الجزاء۔
۔ّمدت سے میرے خیال میں تھا کہ ان سب شعبوںکو اپنے ہم وطن اسلامی بھائیوں کی آگاہی کے واسطے عام فہم اردو میں لکھوں، تاکہ ان کو یہ معلوم ہو کہ جس ایمان کا ہم دعویٰ کیا کرتے ہیں اس کے اس قدر شعبے ہیں، اور غور کریں کہ ہم میں کتنی باتیں ہیں کتنی نہیں ہیں، تاکہ اس سے اپنے ایمان کے نقصان و کمال کا اندازہ کرسکیں۔ اور جن اوصاف کی کمی اپنے اندر پائیں ان کی تحصیل و تکمیل کی کوشش کریں اور بدون تکمیل اس دعوے سے شرمائیں۔ گو اصولِ دین کے مان لینے سے ادنیٰ درجے کا ایمان میسر ہوجاتا ہے مگر وہ ایمان ایسا ہی ہے جیسا لنگڑا، لنجا، اندھا، اپاہج آدمی، آدمی کہلایا جاتا ہے، سب جانتے ہیں کہ ایسا آدمی کس درجے کا آدمی ہے۔
دوسری غرض ان شعبوں کے بتلانے سے یہ بھی ہے کہ غیر قوموں کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ اسلام کی تعلیم کافی و تام ہے،1 اور اسلام اسی کو کامل مسلمان جانتا ہے جس میں یہ سب خصالِ خیر و اوصافِ کمال ہوں، ناقص مسلمانوں کی حالت دیکھ کر اسلام کی تعلیم کو بے وقعت نہ سمجھیں، کیوںکہ اسلام کا کام بتلا دینا ہے، نہ کہ زبردستی کسی کو ویسا ہی بنا دینا۔ یہ قصور ہم لوگوں کا ہے، اسلام پر کوئی الزام نہیں۔