باب نمبر ۱۵
اشتات، متفرقات
ایک پریشان شخص کا حال: سوال: ایک بزرگ ہیں جن کی عمر ایک سو بیس سال کی ہے، دنیاداروں کا ان کے پاس ہجوم رہتا ہے، آمدنی بھی خوب ہوتی ہے۔ یہاں کے رئیسوں میں ایک شخص ان کے چکر میں پھنس گئے۔ ان بزرگ نے ان کو یہ شغل بتلایا کہ پردہ بینی پر نظر جماؤ۔ اور میرا تصور کرو۔ وہ کرنے لگا اور عرصے تک کیا آنکھیں سرخ ہوگئیں اور آنکھوں پر پانی اتر آیا، جب پیر صاحب سے حال عرض کیا تو فرمایا کہ آنکھوں سے آنکھوں کو ملاؤ۔جب پیر سے آنکھیں ملائیں (خدا معلوم) کیا اثر ڈالا کہ جدھر دیکھتے ہیں پیر صاحب کی تصویر اس طرف دکھائی دینے لگی۔ ان کے یہاں وصول (یعنی اللہ تک پہنچنا ) یہی ہے کہ خدا پیر کی شکل میں دکھائی دیتا ہے۔ جس کی وجہ سے اب وہ واصل ہوگئے (یعنی کامل ہوگئے) ہر وقت اس اثر سے اٹھتے بیٹھتے ان ہی کا تصور بندھ گیا، یہی شغل تقریباً پانچ چھ سال تک رہا۔ اب وہ شخص پاگل ہوگیا۔ اس کا دماغ ماؤف ہوگیا۔دماغ کی قوت کے لیے بہت روپیہ صرف کیا۔ سب نے یہی کہا کہ دماغ پر کوئی اثر پڑا ہے، اگر وہ اثر مٹ جایے تو دماغ صحیح ہوسکتاہے۔ الغرض سب کچھ تدبیریں کرچکا کچھ بھی مفید نہ ہوا۔ اب مجنونانہ کیفیت ہے۔ کچھ دنوں زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا۔ اب کچھ سنبھلا ہے ایک مہینے کا عرصہ ہوا میرے پاس آیا تھا۔ میں نے کہا: یہ مسمریزم کا اثر ہے، کوئی مرض نہیں ہے۔ میں نے اس سے سورۂ بقرہ پڑھنے کو کہا، اور پورے قرآن پر سرسری نظر ڈالنے کو کہا۔ اور یہ کہا کہ روز تھوڑی دیر میرے پاس آیا کیجیے، اور آیاتِ شفا پینے کو کہا اور یہ کہا کہ اس پیر کا اگر تصور آجائے تو دفع مت کرو، اور قصداً لاؤ مت۔ چند روز کچھ فائدہ ہوا، یہاں تک کہ نیند بھی اچھی طرح آنے لگی۔
اور ایک روز کہہ رہا تھا کہ اب میں بالکل اچھا ہوں، تقریباً بیس پچیس روز اسی حالت پر گذرے۔ پھر پانچ چھ روز سے نیند کم آتی ہے اور کچھ حالت بدلی ہوئی ہے۔ اسی پیر نے پھر اس کو بلایا تھا، میں نے منع کردیا، اس لیے گیا نہیں۔ چوں کہ یہ بے چارہ بھلا اچھا آدمی تھا اگر حضورِ والا توجہ فرمادیں تو صحت کی امید ہے۔ خدا کے واسطے کوئی تدبیر فرمائیے، اور اسی شہر میں کئی لوگ ان پیر صاحب کے چکر میں پھنسے ہیں، برائے خدا کوئی تدبیر فرمادیجیے۔ یہ عریضہ اس مریض کے اصرار سے بھیجتا ہوں۔1
جواب: السلام علیکم بے چارہ مظلوم کا حال معلوم کرکے سخت افسوس ہوا۔ لیکن مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنْ دَائٍ إِلَّا وَقَدْ جَعَلَ لَہٗ دَوَائً (اللہ تعالیٰ نے کوئی مرض نہیں بنایا مگر اس کی دوا وعلاج بھی بنادیا ہے)۔