سوال نمبر ۵۷۲: ہمارے موضع میں وبائی مرض پھیلا ہوا ہے مخلوق پریشان ہے۔ اس مرض کے دفعیے کے واسطے کئی طریقے سنے گئے اور کتابوں سے معلوم ہوئے، مگر پورے طور پر اطمینان نہیں ہوتا، نہ عمل کا پورا طریقہ معلوم ہوسکا۔ اس علاقے میں اکثر لوگوں نے اس کام کو جناب کی رائے پر منحصر رکھا ہے جو سہل طریقہ اس آفت کے دفعیہ کا اور امن وامان کے حاصل ہونے کا ہو تحریر فرمائیں۔ اس کام کے واسطے چندہ بھی ہورہاہے، مگر اب تک کسی کام میں خرچ نہیں ہوا۔
اور چند روز سے اکثر گاؤں کے باشندے گاؤں سے باہر عیدگاہ میں جمع ہو کر تھوڑی دیر تک توبہ واستغفار کرکے سات مرتبہ اذان پڑھتے ہیں، پھر دو رکعت نفل نماز ادا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اس وبائی مرض کے دفعیہ کے واسطے دعا مانگتے ہیں۔یہ عمل یا کوئی دوسرا طریقہ جس طرح مناسب ہو تحریر فرمائیں۔ اور کتاب ’’شرعِ محمدی‘‘ میں جو فقہ کی اردو میں منظوم ہے اس میں ایسا طریقہ ہے، اگر یہ جائز ہے اور رائے عالی میں مناسب معلوم ہوتا ہے، اس کو بھی تحریر فرمادیں۔
الجواب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالیٰ!
اللہ تعالیٰ اس مرض کو سب جگہ سے دور فرمائیں۔ جو عمل آپ نے’’ شرعِ محمدی‘‘ سے نقل کیا ہے، اس کی کوئی اصل نہیں اور نہ اذان کہنے کی کوئی اصل ہے۔ اور نہ جماعت کے ساتھ نفل ادا کرنا ثابت ہے۔ اس لیے ان سب اعمال کو موقوف کردیا جائے۔
اس کے لیے اصل دو امر ہیں: صدقے کی کثرت اور گناہوں سے توبہ کرنا۔ اور صدقے کے لیے چندہ جمع کرنا مناسب نہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ (اس طرح) دینے میں خلوص نہیں رہتا۔ بلکہ ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے طور سے جو توفیق ہو خود دے دے۔ اور جو چندہ جمع ہوگیا ہے سب دینے والوں سے اجازت حاصل کر کے ایسے لوگوں کو نقد یا غلہ خرید کر خفیہ طور پر دے دیا جائے جو بہت حاجت مند ہیں اور کسی سے سوال نہیں کرتے۔
اور عید گاہ میں جمع ہو کر دعا کرنے میں مضایقہ نہیں۔ لیکن نہ اذان کہیں نہ جماعت سے نفلیں پڑھیں، بلکہ (اللہ کے حضور میں اپنے قصور کا اعتراف کرتے ہوئے خوب) روئیں اور الگ الگ نفلیں پڑھیں اور بہتر ہے کہ گھر آ کر نفلیں پڑھیں۔
اور نیز ضروری ہے کہ حقوق العباد جو کسی کے ذمے ہوں ان سے سبک دوشی حاصل کریں۔ جس نے کسی کا حق دبا رکھا ہو اس کو واپس کرے۔
ظلم کرنا، غیبت کرنا، جھوٹ بولنا، بد نگاہی کرنا (بے پردگی کرنا) اور اس کے علاوہ تمام معاصی کو چھوڑدیں۔ اور ہر وقت استغفار زبان ودل سے جاری رکھیں۔