دیباچہ مصنف

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلَی الصَّادِقِ الْأَمِیْنِ، وَعَلٰی اٰلِہٖ وَأَصْحَابِہٖ حُمَاۃِ الدِّیْن، وَمَنْ تَبِعَھُمْ بِإِحْسَانٍ إِلٰی یَوْمِ الدِّیْنِ۔

امابعد! اللہ ربّ العزت تعالیٰ شانہ نے اپنے آخر ی رسول سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ دین ِاسلام اپنے بندوں تک پہنچایا ۔ رسول اللہﷺ نے اسلامی عقائد ومسائل نہایت تفصیل کے ساتھ بتائے ، قولاً بھی بتایا اور عملاً بھی کر کے دکھایا۔ اسلام کا جو بھی عمل جس کسی سے متعلق ہے وہ اس پر عمل کر سکتا ہے، جو کام ہوہی نہیں سکتا اور طاقت سے باہر ہو اس کی تکلیف نہیں دی گئی۔ اَحکام میں اس قدر رعایت رکھی گئی ہے کہ کسی بھی قسم کے کسی حیلہ اور بہانہ کی کسی کے لیے کوئی بھی گنجائش باقی نہیں رہی۔ ہر مسلمان کو فرائض اور واجبات کا پابند ہونا لازم ہے، ازدیادِ حَسَنات اور رفعِ درجات کے لیے سنن اور مستحبات پر بھی عمل کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔
فرائض وواجبات کی ادائیگی اور سنن اور مستحبات کے اہتمام کے ساتھ ہر قسم کے صغائر وکبائر (چھوٹے بڑے گناہوں) سے بچنا بھی لازم امر ہے، لیکن نفس اور شیطان انسان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ شیطان تو کھلا ہوا دشمن ہے، اسے یہ کہاں گوارا ہوسکتا ہے کہ انسان آخرت میں نجات پائے اور جنت کی نعمتوں سے مالا مال ہو اور اس کے درجات بلند ہو ں، وہ تو ہمیشہ انسان کی ریڑھ مارنے کی فکر میںرہتا ہی ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ انسان کانفس( جو اس کا ہر وقت کاساتھی ہے اور جسے موت کے بعد کی تکلیفوں سے دوچار ہونا ہے، یاوہاں کی نعمتوں سے سرفراز ہونا ہے) وہ بھی آخرت کے کاموں میں سستی برتتا ہے اور موت کے بعد آرام ملنے کے لیے محنت کرنے سے گریز کرتا ہے جبکہ موت کے بعد اعمالِ صالحہ کاثواب ملنے اور گناہوں پر سزا ہونے کایقین بھی ہے۔ نفس اور شیطان دونوں انسان کو آخرت میں کام آنے والے اعمال سے روکتے ہیں اور طرح طرح کے حیلے اور بہانے سجھاتے ہیں، جو شخص اپنے ایمان کی مضبوطی سے ان حیلوں اور بہانوں کا دفاع نہیں کرتا اور عقل کو کام میں لاکر ان کو پس ِ پشت نہیں ڈالتا وہ اپنی آخرت کے نقصان اور خسران کا سامان کرتا ہے۔
ایک عرصہ سے خیال تھا کہ جن حیلوں اور بہانوں کو عموماً لوگ استعمال کرتے ہیں اور ان کو اپنی بے عملی اور بے راہی کی