زیارتِ حرمین شریفین کی تاکیداور فضیلت
ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے قولِ خداوندی: {الْحَجُّ اَشْہُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌج } 1میں کہ وہ (یعنی حج کے معیّن مہینے) شوال اور ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کے دس روز ہیں۔2
فائدہ:شوال سے قبل حج کا احرام باندھنا مکروہ ہے، اور احرام کے علاوہ افعالِ حج میں سے کوئی فعل شوال سے قبل ہو تو وہ بالکل غیر معتبر ہے۔ مثلاً:کسی شخص نے طوافِ قدوم کے بعد سعی بین الصفا والمروہ رمضان میں کرلی تو سعی کافی نہیں ،اور حق تعالیٰ شانہ نے فرمایاہے: اللہ کے لیے لوگوں کے ذمہ بیت اللہ کاحج کرناہے ان پر جوکہ اس تک سبیل (یعنی زادِراہ)کی طاقت رکھیں۔
اور ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جو شخص حج کاارادہ رکھتا ہو اس کوچاہیے کہ جلدی کرے۔ 1 یعنی فرض ہونے کے بعد اوّل ہی سال جانا لازم ہے۔ اگر یہ نہ گیا تو تاخیرِ حج کا گناہ ہوگا، اور اگر کئی سال تک تاخیر کرتا رہا تو فاسق مردود الشہادۃ ہے۔ 2
نیز ارشاد فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ جس شخص کو کسی کھلم کھلا ضرورت، یا ظالم بادشاہ، یا رکاوٹ کے قابل مرض نے حج سے نہ روکا ہو اور پھر بھی (باوجود فرض ہونے کے) اس نے حج نہ کیا ہو، پس خواہ یہودی ہو کر مرے خواہ نصرانی۔3
اور ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ جس شخص نے (خالص) اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں فحش گوئی نہ کی اور نہ گناہ کیاتووہ شخص اس دن کی مانند لوٹتاہے جس دن کہ اس کی ماں نے اس کو جنا تھا۔4
آںحضرت ﷺ نے چار عمرے کیے ہیں، وہ سب ذیقعدہ میں تھے، سوائے اس کے جو حجِ وداع کے ساتھ تھا(کہ وہ ذوالحجہ میں واقع ہوا تھا)۔5

فائدہ (۱):عمرہ سنتِ مؤکدہ ہے، بلکہ بعض فقہا نے واجب کہا ہے۔ اور عمرہ اس کو کہتے ہیں کہ احرام میں عمرہ کی نیت کی جاوے اور طوافِ کعبہ اور صفامروہ کے درمیان سعی کرے۔ پوری تفصیل مکتبۂ تھانوی کی ’’معلم الحجاج‘‘ میں دیکھیں۔

فائدہ (۲):اس جگہ ایک بات قابلِ تنبیہ یہ ہے کہ عام لوگ جوماہِ ذیقعد کو منحوس سمجھتے ہیں یہ بڑی سخت بات ہے اور