دوسروں کو دیکھ کر نہیں کرتے۔ یہ ایک ادنیٰ سی مثال میں دیتا ہوں۔ اس طرح دنیا میں ایک ایک چیز کی بابت اس وقت کوئی ہو تو ایک ایک دفتر لکھ ڈالے، وہ کون سی چیز ہے کہ مسلمانوں نے استعمال نہیں کی، اور جس کا استعمال انھوں نے اپنے جسمِ فانی تک محدود نہیں رکھا، اپنے ابنائے جنس کو نفع پہنچانے کے لیے اس پر ذرا بھی غور نہیں کیا، یہ بات مسلمہ ہے کہ قیامت کے دن ذرا ذرا چیز سے حساب لیا جاوے گا۔ میرا تو قریب قریب یہ عقیدہ ہے کہ جس شخص نے ایسی بے ترتیبی کے ساتھ اللہ کی نعمتوں کو استعمال کیا وہ ضرور مستوجب جواب دہی ہے۔
پانچویں شبہے کی تقریر: اس وقت کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کس چیز کو شرطِ اسلام قرار دیا جاتا ہے؟

چھٹے شبہے کی تقریر: جس چیز کی طرف مسلمانوں کو بلایا جاتا ہے وہ اس سے اتنی دور نکل گئے ہیں کہ ان کے کان میں اس کی آواز بھی نہیں جاتی، تو پردیس رہ کر اس تماشہ کو دیکھ رہا ہوں۔

ساتویں شبہے کی تقریر: جو باتیں ہمارے علمائے دین وپیشوایانِ مذہب تعلیم کرتے ہیں ان میں زمانۂ موجود کے موافق ذلت اور خواری کے سوائے یہاں تو کچھ نظر نہیں آتا، عاقبت میں اگر بہشت اور حوریں ملیں تو اللہ سے امید رکھیں۔ لیکن اس سے یہ لازم آتا ہے کہ دنیا میں نکبت کی ساتھ بسر کرنا عاقبت کی درستی کو لازم ہے، اگر فی الواقع ایسا ہے تو صاف الفاظ میں یہی کہنا چاہیے، خواہ مخواہ یوں کہا جاتا ہے کہ بقدرِ ضرورت دنیا بھی حاصل کرو۔

آٹھویں شبہے کی تقریر: ہم کہتے ہیں کہ بقدرِ ضرورت بھی دنیا حاصل نہیں ہوتی اس طریقے سے جو ہم کو اس وقت علمائے دین تعلیم کرتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ ایک شخص کو کتابیں پڑھا کر عالم بنایا، آپ خود متفکر ہیں کہ وہ اب کیا کرے، پچھلی مرتبہ یہ رائے تھی کہ ان کو حرفت سکھلائی جاوے تو وہ بھی کیا، بڑھئ کا کام، یا لوہار کا کام۔ اب میں نہایت ادب سے گزارش کرتا ہوں کہ بڑھئ کا کام اور لوہار کا کام سکھلائے، اور تار برقی اور ریل کے ہانکنے کا کام یا اسٹیم بنانے کی ترکیب سکھانے میں شرعاً کیا فرق ہے؟ تو اتنا کہ خود مولوی صاحب نہیں جانتے دوسرے کو کیا سکھلا دیں گے؟ لیکن لوہار بڑھئ کا کام سکھلانے کے لیے بھی تو ان کو لوہار بڑھئ نوکر رکھنے پڑیں گے، تو پھر دوسرے فنون سکھلانے والے کیوں نہ نوکر رکھے