وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (10) وَإِذَا السَّمَاءُ كُشِطَتْ (11) وَإِذَا الْجَحِيمُ سُعِّرَتْ (12) وَإِذَا الْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ (13) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا أَحْضَرَتْ (14) فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ (15) الْجَوَارِ الْكُنَّسِ (16) وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ (17) وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ (18) إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ (19) ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ (20) مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ (21) وَمَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ (22) وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ (23) وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ (24) وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ (25) فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ (26) إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَالَمِينَ (27) لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ (28) وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (29)
ترجمہ
اور جب اعمال نامے کھول دئے جائیں گے۔ اور جب آسمان کا چھلکا اتار دیا جائے گا۔ اور جب دوزخ بھڑکائی جائے گی۔ اور جب جنت قریب کردی جائے گی۔ تو اس وقت ہر شخص کو اپنا سارا کیا دھرا معلوم ہوجائے گا۔ اب میں قسم کھاتا ہوں ان ستاروں کی جو پیچھے کی طرف چلنے لگتے ہیں۔ جو چلتے چلتے دبک جاتے ہیں۔ (٧) اور قسم کھاتا ہوں رات کی جب وہ رخصت ہو۔ اور صبح کی جب وہ سانس لے۔ (٨) کہ یہ (قرآن) یقینی طور پر ایک معزز فرشتے کا لایا ہوا کلام ہے۔ (٩) جو قوت والا ہے، جس کا عرش والے کے پاس بڑا رتبہ ہے۔ وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے۔ (١٠) وہ امانت دار ہے۔ اور (اے مکہ والو) تمہارے ساتھ رہنے والے یہ صاحب (یعنی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی دیوانے نہیں ہیں۔ اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ انہوں نے اس فرشتے کو کھلے ہوئے افق پر دیکھا ہے۔ (١١) اور وہ غیب کی باتوں کے بارے میں بخیل بھی نہیں ہیں۔ ٠١٢) اور نہ یہ (قرآن) کسی مردود شیطان کی (بنائی ہوئی) کوئی بات ہے۔ پھر بھی تم لوگ کدھر چلے جارہے ہو ؟ یہ تو دنیا جہان کے لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔ تم میں سے ہر اس شخص کے لیے جو سیدھا سیدھا رہنا چاہے۔ اور تم چاہو گے نہیں، الا یہ کہ خود اللہ چاہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔
تفسير
سے کسی کے یہاں بچی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے اس بچی کو زندہ زمین میں دفن کردیتا تھا۔ قیامت میں اس بچی کو لاکر پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس جرم میں موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا ؟ اس سے ان ظالموں کو سزا دینا مقصود ہوگا جنہوں نے اس بچی کے ساتھ ایسی درندگی کا معاملہ کیا۔
7: بعض ستارے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ کبھی مشرق سے مغرب کی طرف چلتے نظر آتے ہیں، اور کبھی مغرب سے مشرق کی طرف۔ گویا وہ ایک سمت میں چلتے چلتے واپس پلٹ رہے ہیں، پھر چلتے چلتے نگاہوں سے غائب ہوجاتے ہیں، گویا وہ کہیں دبک