کے جانب سے ملنے والی مالی اِمداد کے بند ہونے پر افسوس کرتا ہے اور مالی اِمداد حاصل کرنے کے لیے اپنا عیسائی نام لکھواتا ہے، تو وہ ایمان سے خارج ہو جائے گا۔ (شرحِ فقہ ِاکبر/صفحہ :۲۲۲)[۳]
اِس صورت میں مذکور شخص کی بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی، مسلمان بیوی کا اس کے ساتھ رہنا جائز نہیں ہوگا۔(۴) اور اِس صورت میں اولاد’’ خیر الابوین‘‘ کے تابع ہوگی، یعنی والدین میں سے چوں کہ ماں مسلمان ہے؛ لہٰذا بچے اُس کے تابع شمار ہوںگے۔(۵)فقط،واللہ اعلم بالصواب۔
[۲۲]عالم کا کسی کو یہ جواب دینا کہ ’’ ایسے موقع پر شریعت ایک طرف رکھ دینی پڑتی ہے‘‘
۱۶۴-سوال : ایک صاحب عالم اور دین دار ہیں، کسی معاملہ میں جب اُن سے کہا گیا کہ ’’یہ تو شریعت میں بالکل ناجائز اور حرام ہے‘‘ اِس کے جواب میں اُس عالمِ دین نے کہا کہ ’’ایسے موقع پر تو شریعت ایک طرف رکھ دینی پڑتی ہے‘‘ (العیاذ باللہ) تو اِن الفاظ کے کہنے والے کے بارے میں حکمِ شرعی کیا ہے؟ اس کے لیے تجدید ِنکاح ضروی ہے یا نہیں؟
الجواب حامداً و مصلیاً :
’’یہ تو بالکل ناجائز اورحرام ہے‘‘ کے جواب میں یہ کہنا کہ ’’ایسے موقع پر شریعت ایک طرف رکھ دینی پڑتی ہے‘‘ اِس جملے میں دو باتیں ہیں، ایک تو ناجائز اور حرام کے ارتکاب پر جرأت و بے باکی، دوسرا شریعت کا استخفاف۔
------------------------------
=خیال ہوتا ہے کہ حضرت مفتی صاحبؒ کی یہ بات کہ’’ اسلام قبول کرلینے کی وجہ سے وراثتی حق ختم نہیں ہوتا‘‘ان ممالک کے لیے ہے، جہاں اس طرح کا قانون ہے، سوال کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل نے اسی طرح کے کسی ملک کے مسئلہ کے سلسلے میں سوال کیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ مجتبیٰ حسن قاسمی
(۳) و فی الخلاصۃ : من قال : حین مات أبوہ علی الکفر، و ترك مالا ـــ  لیت ھو أي الولد نفسہ لم یسلم إلی ھٰذا، أي ھٰذا الوقت، لیرث أباہ الکافر، کفر؛ لأنہ تمنی الکفر، وذلك کفر.( شرح الفقہ الأکبر، ص: ۲۲۲، فصل في الکفر صریحا و کنایۃ، ط: یاسرندیم -دیوبند)
(۴) (وارتداد أحدھما) أي الزوجین (فسخ) فلا ینقص عددا (عاجل) بلا قضاء. قال الشامي : أي بلا توقف علی قضاء القاضي، وکذا بلا توقف علی مضي عدۃ في المدخول بھا، کما في البحر.(الدر المختار مع رد المحتار: ۳؍۱۹۴، کتاب النکاح، باب نکاح الکافر، ط: دارالفکر- بیروت)
(۵)والولد یتبع خیر الأبوین دینا. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳؍ ۱۹۶، کتاب النکاح، مطلب الولد یتبع خیر الأبوین دینا، ط: دارالفکر- بیروت)