[۸]غیر محرم عورت کے لیے میت مرد کا چہرہ دیکھنا یا غیر محرم مرد کے لیے میت عورت کا چہرہ دیکھنا
۱۰۷۳- سوال: میت مرد کا چہرہ غیرمحرم عورتیں دیکھ سکتی ہیں یا نہیں؟ عورت کا انتقال ہو جائے تو غیر محرم مرد اُس کا چہرہ دیکھ سکتا ہے یا نہیں؟
الجواب حامداً و مصلیاً:
مرد ،اجنبی میت عورت کا اور عورت اجنبی میت مرد کا چہرہ دیکھ سکتی ہیں،البتہ ایک دوسرے کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔(۱)فقط، واللہ اعلم بالصواب۔
------------------------------
(۱)اس فتویٰ میں حضرت مفتی صاحب ؒ نے مرد کے لیے غیر محرم خاتون میت کا چہرہ دیکھنے کو، اور عورتوں کے لیے غیر محرم میت مرد کا چہرہ دیکھنے کو جائز لکھا ہے، حالاں کہ ماقبل کے فتویٰ میں اس کے عدم جواز کی تصریح منقول ہے، اس لیے کہا جاسکتا ہے ، کہ کہیں یہ ناقل فتاویٰ کی ’’کارستانی‘‘ تو نہیں،اصل حکم وہی ہے، جو ماقبل کے فتویٰ میں مذکور ہے، فقہ و فتاویٰ کی عام کتابوں میں بھی اسے ناجائز کہا گیا ہے،اکابر علماء کے چند فتاویٰ ملاحظہ فرمائیں:
سوال: مستورات کے لیے اجنبی مرد کی میت پر مہر(آخری دیدار)کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: مستورات کو اجنبی میت کو دیکھنا ناجائز ہے ، اپنے محرم کو دیکھ سکتی ہیں؛کیوں کہ حدیث شریف میںاجنبی شخص کو دیکھنے سے منع فرمایا ہے:
عن أم سلمة، قالت: كنت عند رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم وعنده ميمونة، فأقبل ابن أم مكتوم، وذلك بعد أن أمرنا بالحجاب، فقال النبي صلى اللہ عليه وسلم: احتجبا منه، فقلنا: يا رسول اللہ، أليس أعمى لا يبصرنا، ولا يعرفنا؟ فقال النبي صلى اللہ عليه وسلم: أفعمياوان أنتما ، ألستما تبصرانه.(سنن أبي داود:۲؍۵۸۷،رقم الحدیث: ۴۱۱۲، کتاب اللباس، باب في قوله عز وجل: {وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن}،ط: دیوبند٭ سنن الترمذي: ۲؍۱۰۶ ، رقم الحدیث:۲۷۷۸، أبواب الأدب،باب ما جاء في احتجاب النساء من الرجال، ط: دیوبند) [کفایت المفتی:۴؍ ۶۲، کتاب الجنائز،ط: زکریابک ڈپو، دیوبند]
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
عورت چھپانےکی چیز ہے،نہ کہ دکھانے کی چیز، آں حضرت ﷺ کا ارشاد ہے: ’’المرأۃ عورۃ‘‘یعنی عورت چھپانےکی چیز ہے، نیز آں حضرت ﷺ کا ارشاد ہے:’’لعن اللہ الناظر و المنظورإلیہ‘‘یعنی خدا کی لعنت اس پر، جو نامحرم عورت کو دیکھے اور اس بے پردہ عورت پر، جس کو دیکھا جائے۔(مشکاۃ المصابیح:۲؍۹۳۶کتاب النکاح، باب النظر إلی المخطوبۃ و بیان العورات،ط: المکتب الإسلامي- بیروت)
لہٰذا جس کو بہ حالت حیات دیکھنا منع ہے، مرنے کے بعد بھی اس کو دیکھنا منع ہے۔(فتاویٰ رحیمیہ:۷؍۱۲۱، کتاب الجنائز،ط:دارالاشاعت،کراچی)