اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَّفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّعَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا وَّعَنْ شِمَالِیْ نُوْرًا وَّمِنْ خَلْفِیْ نُوْرًا وَّ مِنْ اَمَامِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا وَّ فِیْ عَصَبِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ لَحْمِیْ نُوْرًا وَّفِیْ دَمِیْ نُوْرًا وَّفِیْ شَعْرِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَشَرِیْ نُوْرًا وَّفِیْ لِسَانِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ فِیْ نَفْسِیْ نُوْرًا وَّاَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْنِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ مِنْ فَوْقِیْ نُوْرًا وَّمِنْ تَحْتِیْ نُوْرًا اَللّٰھُمَّ اَعْطِنِیْ نُوْرًا ؎
ترجمہ:اے اﷲ! عطا فرما میرے دل میں نو ر اور میری بینائی میں نور اور میری شنوائی میں نور اور میری داہنی طرف نور اور میرے بائیں طرف نور اور میرے پیچھے نور اور میرے سامنے نور اور عطا فرما میرے لیے ایک خاص نور اور میرے اعصاب میں نور اور میرے گو شت میں نور اور میرے خون میں نور اور میرے بالوں میں نور اور میرے پو ست میں نور اور میری زبان میں نور اور میرے نفس میں نور بنا اور مجھے نورِ عظیم عطا فرما اور مجھے سراپا نور بنا دے اور کر دے میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور ۔ یااﷲ! مجھے نور عطا فرما۔
اسی کو مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرما تے ہیں ؎
نورِاو در یمن و یسر و تحت و فوق
بر سرم بر گردنم مانندِ طوق
اﷲ کا نورمیرے دائیں بائیں نیچے اوپر ہے اور میرے سر اور گردن میں مانند طوق ہے۔
حدیث اِذَا رُاُوْا ذُکِرَ اللہْ کی عجیب تشریح
ارشاد فرمایا کہ حدیثِ پاک میں اہل اﷲ کی تعریف میں آتا ہے:
اِذَا رُاُوْا ذُکِرَ اللہُ ؎
یعنی جب ان کو دیکھا جا تا ہے تو اﷲ یا د آ جا تا ہے۔ اس کا کیا را ز ہے؟ کیوں کہ کثرتِ ذکر کی برکت سے ان کے چہرے میں، آنکھوں میں، رگوں میں اور رگوں کے دورانِ خون میں اور ان
------------------------------