کے بال بال میں اﷲ کا نور داخل ہو جا تا ہے اور وہ اس نور کے حامل ہو تے ہیں جو اس دعا میں مذکور ہے اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَّ فِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا…الٰخ پس اﷲ والوں کو دیکھنا گویا انوارِ الٰہیہ کا مشاہدہ کرنا ہے تو پھر ان کو دیکھ کر کیوں اﷲ نہ یاد آئے گا۔
ذکر کا مطلب
ارشاد فرمایا کہ ذکر کےکیامعنیٰ ہیں۔حکیم الامّت رحمۃ اللہ علیہ تفسیر بیان القرآن میں لکھتے ہیں کے فَاذْکُرُوْنِیْ یعنی تم مجھ کو یاد کرو اور یاد کیسے کرو گے؟ بِالْاِطَاعَۃِ میری اطاعت کرو۔ اگر ماں باپ بیمار ہیں تو اپنی نفلیں، تلاوت اور وظیفے چھوڑ کر جاؤ اور ان کے لیے دوا لاؤ۔ اس وقت یہی اﷲ کا ذکر ہے۔ بیوی بیمار ہے اور دوا اس لیے نہیں لاتے کہ آپ مراقبہ میں آسمان پر بیٹھے ہیں۔ اگرآسمان پر بٹھانا ہوتا تو زمین پر کیوں پیدا کرتے؟ اس وقت فوراً جا کر اس کے لیے دوا لاؤ، ورنہ اگر مراقبہ میں رہے تو دس جگہ ڈھنڈورا پیٹے گی کہ خبر دار!صوفیوں سے نکاح مت کرنا،یہ آنکھ بند کر کے عرش پر رہتے ہیں، فرش والوں کا حق جانتے ہی نہیں، ہم بیمار تھے تو وہ مراقبہ میں آنکھ بند کر کے مسجد میں بیٹھا ہوا تھا۔ پھر صوفیوں کے لیے آپ مشکل کردیں گے اور ان کانکاح مشکل ہوجائے گا۔ ایسے وقت میں بندوں کا حق ادا کرو، ماں باپ کی دوا لاؤ، بیوی بچوں کے لیے دوا لاؤ۔ ایسے وقت میں یہی ذکر ہے، یہی عبادت ہے۔ ذکر در اصل اطاعت کا نام ہے۔ اس لیے حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ نے ، علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے اور جملہ مفسرین متقدّمین و متأخّرین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے جس کو حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ نے بیان القرآن میں نقل فرمایا کہ فَاذْکُرُوْنِیْتم ہم کو یاد کرو۔کس طرح؟بِالْاِطَاعَۃِمیری اطاعت وفرماں برداری سے اَذْکُرْکُمْمیں تم کو یاد کروں گا۔ کس بات سے؟بِالْعِنَایَۃِ اپنی عنایت سے۔؎ حضرت نے تفسیری جملہ ایک جگہ بِالْاِطَاعَۃِبڑھادیا اور ایک جگہ بِالْعِنَایَۃِ جس سے آسانی سے بات سمجھ میں آگئی کیوں کہ یاد تو اﷲ تعالیٰ سب کو رکھتا ہے، خدا بھولتا نہیں ہے، کافر، نافرمان، بدمعاش، قاتل، ڈاکوؤں کو بھی یاد کرتا ہے لیکن غضب اور قہر کے ساتھ یاد کرتا ہے اور جو فرماں بردار ہیں ان کو اپنی رحمت اور عنایت کے ساتھ یاد کرتا ہے، اُن پر اپنی رحمت کی بارش کرتا ہے۔
------------------------------