ذَکَرُ وْااللہْ کی پانچ تفسیریں
ارشادفرمایا کہ ذَکَرُوْااللہْ کی پانچ تفسیریں ہیں: پہلی تفسیر ہے ذَکَرُوْا عَظْمَتَہٗ وَوَعِیْدَہٗ جب اﷲ کے خاص بندوں سے کوئی خطا ہوجاتی ہے تو اﷲ کی عظمت اور اس کی وعید کو یاد کرتے ہیں۔ دوسری تفسیر ہے ذَکَرُوْا عَرْضَ عَلَیْہِ اﷲ کے حضور اپنی پیشی کویاد کرتے ہیں کہ قیامت کے دن اﷲ پوچھے گا کہ تم جس کوٹھڑی میں چھپ کر گناہ کررہے تھےوَہُوَ مَعَکُمۡ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ؎ وہاں میں بھی تھا وَ اللہُ یَعۡلَمُ مُتَقَلَّبَکُمۡ وَمَثۡوٰىکُمۡ؎ جب شہر میں بس اسٹاپوں پر سے گزرتے ہوئے تم لڑکیوں کے اسکولوں کے سامنے کھڑے ہوکر جو بدنگاہی کرتے تھے تو تمہارا تَقَلُّبْ فِی الْبِلَادْشہروں میں چلنا پھرنا بھی خدا دیکھ رہا تھا اور مَثۡوٰىکُمۡ جب تم اپنی قیام گاہوں میں چھپ کر گناہ کررہے تھے تو بھی خدا تمہیں دیکھ رہا تھا۔ تیسری تفسیر ہے ذَکَرُوْا سُوَالَہٗ بِذَنْبِھِمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ان پر اﷲ تعالیٰ کے سوالات کا خوف طاری ہوجاتا ہے کہ قیامت کے دن اﷲ پوچھیں گے کہ دنیا میں کیا کیا اعمال کیے۔ چوتھی تفسیر ہے ذَکَرُوْا جَلَالَہٗ فَہَابُوْا اﷲ تعالیٰ کے جلال و عظمت کو یاد کرتے ہیں اور خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔ اور پانچویں تفسیر ہے ذَکَرُوْا جَمَالَہٗ فَاسْتَحْیَوْا اﷲ تعالیٰ کے جمال کو یاد کرتے ہیں اور شرمندہ ہوجاتے ہیں کہ جو حوروں کا خالق ہے وہ خود کیسا ہوگا؟
تیرے سوا معبودِ حقیقی کوئی نہیں ہے کوئی نہیں
تیرے سوا مقصودِ حقیقی کوئی نہیں ہے کوئی نہیں
تیرے سوا موجودِ حقیقی کوئی نہیں ہے کوئی نہیں
تیرے سوا مشہودِ حقیقی کوئی نہیں ہے کوئی نہیں
اب تو رہے بس تادم آخر وردِ زباں اے میرے الٰہ
لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہ
(مجذوبؔ حمتللہعلیہ)
------------------------------