میں ہوگا تو کسی کے خلاف ہوگا اور جس کے خلاف ہوگا وہ کبھی تم سے دین نہیں سیکھے گا، نہ تم سے اصلاح لے گا، نہ تربیت چاہے گا۔ اپنے بزرگوں کا یہ راستہ ہے، یہ راستہ بالکل تقویٰ کا ہے اور وہ راستہ لقوہ کا ہے جہاں کوئی پردہ نہیں، تصویر بھی کھینچواؤ، بڑےبڑے اشتہار لگاؤ کہ فلاں مولانا صاحب الیکشن میں کھڑے ہیں داڑھی لیے ہوئے اور فلاں مولانا صاحب نامحرم عورتوں سے سیاسی مسائل پر گفتگو کررہے ہیں۔ لیکن اگر کسی کو وہی رنگ پسند ہے تو ہم اس کو نہیں روکتے مگر پھر مجھ سے تعلق نہ رکھے کیوں کہ یہ ہمارا راستہ بہت حسّاس راستہ ہے، اللہ کی محبت کا مضمون اتنا حسّاس اور اتنا وسیع ہے کہ یہ چندے بازی کے ساتھ بھی جمع نہیں ہوسکتا۔ اگر کوئی شیخ تقریر کے بعد مسجد میں کہے کہ صاحبو! میرا مدرسہ ہے آپ لوگ چندے نکالو تو پھر اس کی تقریر دوبارہ لوگ سُنیں گے بھی نہیں۔ اور اس کی تقریر کا سارا اثر ختم ہوجائے گا پس اگر اللہ والا بننا ہے تو اللہ والوں کے راستے پر چلنا پڑے گا کیوں کہ ؎
مستند رستے وہی مانے گئے
جن سے ہوکر تیرے دیوانے گئے
لوٹ آئے جتنے فرزانے گئے
تا بہ منزل صرف دیوانے گئے
آہ کو نسبت ہے کچھ عُشّاق سے
آہ نکلی اور پہچانے گئے
رہ گیا پیٹ کا مسئلہ تو مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو پیٹ بناسکتا ہے وہ روٹی بھی کھلاسکتا ہے، جو سر بناسکتا ہے وہ ٹوپی بھی پہناسکتا ہے۔ پیٹ مہنگا ہے یا بوٹی، سر زیادہ مہنگا ہے یا ٹوپی۔ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ وہ نادانوں کو ایسا رزق دیتا ہے کہ بڑے بڑے دانشورِ محو حیرت رہ جاتے ہیں۔ اس کو شیخ سعدی نے فرمایا ؎
بہ ناداں آنچناں روزی رساند
کہ دانا اندراں حیراں بماند