من نکردم خلق تاسودے کنم
بلکہ تا بر بندگان جودے کنم
میں نے اے بندوں! تم کو اس لیے نہیں پیدا کیا کہ تم سے کوئی نفع حاصل کروں بلکہ اس لیے پیدا کیا ہے کہ اپنی رحمت کے خفیہ خزانے تم پر لٹادوں۔ پس جب اسی لیے پیدا کیا ہے تو اس ماہِ مبارک میں یوں دعا مانگو کہ اے وہ ذات پاک! جس نے ہمیں اپنا فقیر بناکر پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ اپنے خزانے ہم پر لٹادے تو اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ کا ایک فرد آپ سے بھیک مانگ رہا ہے کہ ان خزانوں کی بارش مجھ پر بھی فرمادیجیے اور میری دین اور دنیا کی مرادوں کو پورا فرمادیجیے۔
۷؍ رمضان المبارک۱۳۹۴؁ھ مطابق ۲۴؍ ستمبر۱۹۷۴؁ء، بروز منگل
ایک خواب کی انوکھی تعبیر
ایک صاحب نے عرض کیا کہ میں نے عجیب خواب دیکھا کہ میں حج پر گیا ہوں تو اہلِ عرب نے جہاز کے سامنے یہ نعرہ لگایا کہ اونٹ ہمارا خدا ہے۔ اس کی تعبیر یہ ارشاد فرمائی کہ حضرت تھانوی سے حضرت پھولپوری نے نقل کیا کہ خواب میں بعض دفعہ بعض الفاظ محذوف ہوجاتے ہیں اس خواب میں لفظ نشانی چھوٹ گیا۔ جملہ یوں تھا کہ اونٹ ہمارا نشانئ خدا ہے اور یہ نشانی عرب میں سب سے زیادہ ہے:
اَ فَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیْفَ خُلِقَتْ؎
کیفیتِ خلق کی طرف متوجہ فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ کیفیتِ خلق سے کیفیتِ صانع کی معرفت حاصل کرو۔ مخلوق میں صانع کو دیکھو کہ جس کی مخلوق کی یہ کیفیت ہے اس کا صانع کیسا ہوگا۔ کیفیت مصنوعیت کیفیت صانع پر دلالت کرتی ہے۔
------------------------------