محرم الحرام کی حقیقت و فضیلت
ایف جے،وائی(January 22, 2010)

محرم الحرام کا پورا مہینہ اﷲ تعالیٰ کی خصوصی توجہات کا محل ہے ، اس لیے اس ماہ میں جتنا ہوسکے عبادات میں خوب خوب کوشش کرنی چاہیے، جیسا کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیمات میں ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے ذیل میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیے:

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ یوم عاشوراءیعنی دسویں محرم کا روزہ ہے۔

حضرت عباسؓ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سب سے زیادہ اہتمام نفلی روزوں میں عاشوراءکے روزہ کا فرمایا کرتے تھے۔

حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ ۰۱ھ میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے روزہ رکھا اور صحابہؓ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ آئندہ سال میں اس دن کو پاﺅں گا تو نویں محرم و دسویں محرم و گیارہویں محرم کو روزہ رکھوں گا تاکہ یہودیوں کے روزے اور ہمارے روزوں میں امتیاز ہوسکے۔

حضرت ابو قتادہؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا عرفہ کا نفلی روزہ روزہ دار کے لیے دو سال کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے، جس سال میں اس نے روزہ رکھا اور اس سے پہلے سال کا کفارہ ہوتا ہے، لیکن عاشوراءکا روزہ صرف ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔

حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا میرا جو امتی عاشوراءکے دن اپنے اہل و عیال پر رزق میں فراخی کرے گا تو اﷲ تعالیٰ پورے سال اس کے رزق میں فراوانی عطا فرمائے گا۔ (مشکوة شریف) حضرت سفیانؓ کہتے ہیں ہم نے حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس ارشاد پر عمل کیا تو پورے سال ہمارے رزق میں فراوانی رہی۔ اتباعِ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی یہی برکات و ثمرات ہیں۔

اس ماہ میں جن امور کی ہدایات پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم نے کی ہیں وہ دو ہیں۔ ایک نویں دسویں، یا دسویں گیارہویں کا روزہ جو کہ سنت ہے، دوسرے دسویں کو حسب استطاعت اہل و عیال پر کھانے پینے میں وسعت و فراخی کرنا جو کہ مستحب ہے۔ ان کے علاوہ جن بدعات و رسومات کا رواج ہمارے زمانے میں ہورہا ہے وہ سب قابل ترک ہیں اور موجبِ وبال ہیں۔

اس ماہ کی برکت و عظمت اور فضائل کا تقاضا یہ ہے کہ اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ عبادات میں مشغول ہوکر انوارِ الٰہیہ حاسل کئے جائیں۔ مگر ہم نے محرم الحرام کے مہینے اور خاص طور پر اس کی دسویں تاریخ میں طرح طرح کی خود تراشیدہ رسومات و بدعات میں مبتلا ہوکر اپنی ہلاکت کا سامان فراہم کرلیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور ان خرافات سے بچائے، آمین۔

بدقسمتی سے محرم الحرام کے حوالے سے جو بات ہمارے سادہ لوح مسلمانوں کے ذہنوں میں بٹھادی گئی ہے وہ یہ ہے کہ محرم الحرام نالہ و شیون، ماتم اور تعزیہ داری کا مہینہ ہے اور بہت سے نادان تو شاید اسے منحوس مہینہ سمجھتے ہیں اسی لیے اس مہینے میں شادی بیاہ کو جائز نہیں جانتے ، کیونکہ کہ دس محرم الحرام کو حضرت حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا حالانکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ شہادت رنج و غم کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ تو وہ بلند مقام ہے جس کی آرزو خود ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم بھی فرماتے تھے۔

معلوم ہوا کہ شہادت ایسی چیز نہیں کہ اس پر رنج و غم کا اظہار کیا جائے یا ماتم کیا جائے۔ تاریخ اسلام میں بڑے بڑے انبیاءعلیہ السلام اور صحابہ کرام اور اولیاءعظام کی بھی شہادتیں ہوئی ہیں۔ پس اگر شہیدوں کے ماتم کی اجازت ہوتی تو سال بھر کے دنوں میں کوئی دن ماتم سے خالی نہ ہوتا اور پھر ہمارے لیے ماتم کے سواکوئی دوسرا کام کرنا ممکن ہی نہ ہوتا۔ اﷲ تعالیٰ پوری امت مسلمہ کو حق سمجھنے اور حق پر چلنے اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی جملہ تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

غرض اسلام کے نزدیک یہ مہینہ بڑا محترم اور بڑی عظمت والا ہے۔ محرم کے تو معنیٰ ہی عظمت و حرمت والا ہے۔ یہ اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور احادیث مبارکہ میں اس کے بہت فضائل آئے ہیں۔ دل سے دعا ہے اﷲ تعالیٰ امت مسلمہ کو تمام رسومات اور بدعات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ یہ مہینہ ہمارے لیے خیر و برکت کا باعث ہو ،آمین۔