پڑھ دے اور سجدہ سہو واجب ہوجائے، تو کیا نماز ہی سے انکار کردوگے؟ اسی طرح اگر کسی تبلیغی جماعت والے سے کوئی بے اصولی ہوجائے تو پوری تبلیغی جماعت کو متہم کرنا اور تبلیغ کی مخالفت کرنا کہاں جائز ہے؟
تبلیغی جماعت بہترین جماعت ہے
میں سمجھتا ہوں کہ دینی اعتبار سے اجتماعی کام کرنے والی جماعتوں میں اس وقت سارے عالَم میں تبلیغی جماعت بہترین جماعت ہے۔ تبلیغ کے اصول بتانا تو واجب ہے، لیکن جس بات سے تبلیغ کی حقارت، تبلیغی جماعت کی توہین یا ان کا مذاق اُڑانا لازم آئے اس کو میں حرام سمجھتا ہوں۔ مسئلہ اور حدود کی بات بتانا اور چیز ہے، تنقید و تنقیص کرنا اور چیز ہے۔ مثلاً اگر ان سے کچھ کوتاہی ہوجائے تو مرکز کو یا علمائے دین کو اطلاع کردو تاکہ اس کی اصلاح ہوجائے، لیکن اس طرح کا رویہ نہ اختیارکرو جس سے معلوم ہو کہ یہ غیر ہیں۔ یہ ہمارے ہیں۔ مولانا الیاس صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کون تھے؟ ہمارے ہی بزرگوں میں تھے، مولانا خلیل احمد سہارن پوری رحمۃ اﷲ علیہ کے خلیفہ تھے، تیس برس خانقاہ میں ان کی خدمت میں رہے، اﷲ تعالیٰ نے ان سے اتنا بڑا کام لیا کہ آج تبلیغی جماعت سے سارے عالَم میں دین پھیل رہا ہے۔
بعض پڑھے لکھے لوگوں کا دل چاہتا ہے کہ ہم جماعتی حیثیت سے کام کریں، اُن کو میں تبلیغ میں بھیج دیتا ہوں یعنی اﷲ تعالیٰ نے اس جماعت کو ہمارے لیے بہت بڑے فرضِ کفایہ کا ذریعہ بنا دیا، کیوں کہ بعضوں کا مزاج اتنا تیز ہے کہ وہ خانقاہوں میں آنے کے لیے تیار نہیں، علماء کے پاس جانے کے لیے تیار نہیں، کالجوں میں، فیکٹریوں میں، دوکانوں پر سانپ کی طرح بیٹھے ہیں یعنی مال پر فدا ہیں، یہ جماعت ان کو لے کر نکل جاتی ہے۔ اس کی برکت سے بڑے بڑے افسران اور انگریزی دان نماز، روزہ ادا کرنے لگے اور سنت پر چلنے لگے۔ تو کسی کی ایسی تقریر کا یہ مطلب نہیں کہ ہم تبلیغی جماعت کی مخالفت کرتے ہیں۔ میں تو حدود بیان کر رہا ہوں کہ جہاں ہم ان کی خدمت کے قائل ہیں، ان کی عزت کرتے ہیں، وہاں ساتھ ساتھ یہ نصیحت ہے کہ وہ علماء کو حقیر نہ سمجھیں، مشایخ و بزرگوں کو حقیر نہ سمجھیں۔
امریکا، جاپان میں اسلام پہنچانے سے ہمیں خوشی ہے،لیکن اس کو اس حیثیت سے