توبہ کرنا کسی حال میں نہیں چھوڑنا چاہیے
خواجہ صاحب کی اس ترتیب میں حکیم الامت کا وہ ملفوظ بھی آگیا جو ابھی بیان کیا۔ خواجہ صاحب ایک اور جگہ فرماتے ہیں ؎؎
جو ناکام ہوتا رہے عمر بھر بھی
بہرحال کوشش تو عاشق نہ چھوڑے

مان لیجیے! ایک آدمی توبہ کرتا ہے پھر اس کی توبہ ٹوٹ جاتی ہے، پھر وہ اﷲ سے معافی مانگتا ہے۔ دس دن ذکر کرتا ہے،تین دن چھوڑ دیتا ہے پھر شروع کردیتا ہے، بہرحال کام میں لگا ہوا ہے، تو فرماتے ہیں کہ ان شاء اﷲ یہ بھی سلوک طے کر جائے گا۔ سلوک ان کا نامراد ہوتا ہے جو بیٹھ جاتے ہیں اور پھر چلتے ہی نہیں، اسی لیے مولانا شاہ وصی اﷲ صاحب رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے تھے ؎
ہم نے طے کیں اس طرح سے منزلیں
گرپڑے گر کر اُٹھے اُٹھ کر چلے

تو خواجہ صاحب فرماتے ہیں ؎
جو ناکام ہوتا رہے عمر بھر بھی
بہرحال کوشش تو عاشق نہ چھوڑے

یہ رشتہ محبت کا قائم ہی رکھے
جو سو بار ٹوٹے تو سو بار جوڑے

دوستو! اگر مچھلی کو سو دفعہ پانی سے نکالو تو وہ پھر پانی میں جائے گی۔ اگر اس سے کہو کہ تجھے پانی میں جاتے ہوئے شرم نہیں آتی،تو وہ کہے گی کہ ایسی شرم پر مارو لات، کیوں کہ پانی ہی ہے میری حیات، پانی کے بغیر تو مجھے موت آجائے گی۔ اسی طرح بندہ سے چاہے لاکھ دفعہ گناہ ہوجائے تو لاکھ دفعہ توبہ کرے اور توبہ سے نہ شرمائے، کیوں کہ توبہ سے شرمانا اﷲ سے دوری کو برداشت کرنا ہے۔ جیسے غالب نے مسلمانوں کو توبہ کرنے سے شرم دلائی تھی ؎