خدمت خلق کی اہمیت اور اس کے حدود
ایف جے،وائی(February 10, 2010)

دین کا ہر کام جو اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوکار خیر اور باعث اجر و ثواب ہے۔ انہی کاموں میں خدمت خلق بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مخلوق کی بے لوث خدمت کرنا انسانی اخلاق کا نہایت اعلیٰ جوہر ہے۔ جو انسان مخلوق کی خدمت کرتا ہے اور اﷲ تعالیٰ کے بندوں سے پیار کرتا ہے اور ان کی کسی غرض اور لالچ کے بغیر خدمت کرتا ہے حق تعالیٰ کے نزدیک اس کا مرتبہ بہت بلند ہوتا ہے، محتاجوں کی ضرورت کو پورا کرنا، بھوکے کو کھانا کھلانا، ننگے کو کپڑے پہنانا، بیمار کے لیے علاج کاانتظام کرنا، یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنا، اور ان کی سرپرستی کرنا فی نفسہ عظیم الشان کار خیر ہے۔ لیکن یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ اس بلند مرتبے پر صرف وہی لوگ پہنچ سکتے ہیں جو اسلام و ایمان و تقویٰ سے مشرف ہوں ورنہ بظاہر مخلوق کی خدمت تو یہود و نصاریٰ بھی کرتے ہیں لیکن ان کی خدمت عنداﷲ مقبول نہیں کیونکہ وہ خالق کے وفادار نہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بیٹا باپ سے تو بغاوت کرتا ہے لیکن بھائیوں کی بظاہر خوب خدمت کرتا ہے تو باپ کے نزدیک اس کی خدمات مقبول نہ ہوں گی اور ان خدمات میں درپردہ اس کی اپنی اغراض فاسدہ شامل ہوتی ہیں جن کے حصول کے لیے وہ خدمت کررہا ہے کہ ہم تمہاری خدمت کررہے ہیں تم ان اغراض فاسدہ کے حصول میں ہماری مدد کرنا۔ شیخ العرب والعجم عارف باﷲ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں کہ انبیاءعلیہم السلام کی دعوت الی اﷲ اور خدمت خلق صرف اﷲ کے لیے تھی۔ وہ فرماتے تھے ان اجری الاعلیٰ رب العالمین ہمارا اجر تو ہمارے رب کے پاس ہے۔ اس کے برعکس اہل باطل اپنی دعوت پر جو بظاہر مفت دودھ کے ڈبے اور کپڑے وغیرہ تقسیم کرتے ہیں یہ بلا اجرت نہیں بلکہ اس میں ان کی اغراض فاسدہ مثلاً اپنا غلبہ و مقبولیت، باطل کی حمایت، اپنے ملک و قوم و تجارت کی منفعت وغیرہ پوشیدہ ہوتے ہیں اور ان کی دعوت دعوة الی اﷲ نہیں دعوة الیٰ غیر اﷲ ہے، صرف مفت چیزیں تقسیم کرنا حق پر ہونے کی دلیل نہیں۔ اگر قرآن پاک میں صرف یہ نازل ہوتا کہ اتبعوا من لا یسئلکم اجرا ان کی اتباع کرو جو تم سے بدلہ نہیں مانگتے تو یہود و نصاریٰ دعویٰ کرسکتے تھے کہ ہم بھی اجرت نہیں مانگتے، ہماری مشتریاں اناج، دودھ کے ڈبے اور دوائیاں مفت تقسیم کرتی ہیں، ہم مفت میں انسانوں کی خدمت کررہے ہیں اور اس کا ہم کوئی معاوضہ بھی نہیں مانگتے لہٰذا ہماری دعوت بھی حق ہے اور ہم بھی اس آیت کے مصداق ہیں لیکن سبحان اﷲ! قرآن پاک کے علوم جامع اور مانع ہوتے ہیں پس اﷲ تعالیٰ نے آگے فوراً قید لگادی وہم مہتدون کہ اجرت نہ مانگنے والوں کا ہدایت یافتہ ہونا ضروری ہے۔ وہم مہتدون حال ہے اور حال ذوالحال کے لیے قید ہوتا ہے۔ پس جو لوگ اپنی خدمات کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے ان کی اتباع مقید ہے اس حال کے ساتھ کہ وہ ہدایت یافتہ بھی ہوں۔ پس جو لوگ ہدایت یافتہ نہیں ہیں مغضوب علیہم اور ضآلین ہیں، وہ لاکھ خدمت کریں اور معاوضہ طلب نہ کریں ان کی اتباع جائز نہیں۔ وہم مہتدون نے ان کو متبوع ہونے سے خارج کردیا۔ معلوم ہوا کہ مفت دینی خدمات سے دھوکہ نہ کھانا چاہیے بلکہ خدام دین کا وہم مہتدون سے ہونا یعنی ہدایت یافتہ ہونا ضروری ہے۔ (خزائن شریعت و طریقت ص۷۱۱)

لہٰذا خدمت خلق بھی ہمیں اہل باطل کے طریقوں سے نہیں کرنی چاہیے جو حدود الٰہیہ کو توڑ کر خدمت کرتے ہیں مثلاً ہسپتال قائم کرنے کی آڑ میں زنانہ نرسوں سے مرد مریضوں کا علاج کراکے بے پردگی و بے حیائی کو عام کرنا، خدمت خلق میں بھی حدود الٰہیہ کی رعایت ضروری ہے۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی سیرت ہر مسلمان کے لیے بہترین نمو نہ ہے جس کی اطاعت و پیروی کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ ایک مرتبہ ایک عورت مکہ کی ایک گلی سے گز ررہی تھی اس کے سر پر اتنا بھاری بوجھ تھا کہ وہ بمشکل قدم اٹھا سکتی تھی۔ بعض لوگ اس کا مذاق اڑانے لگے، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کہیں قریب ہی تھے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم اس عورت کو مشکل میں دیکھ کر فوراً آگے بڑھے اور اس کا بوجھ خود اٹھا کر اس کی منزل پر پہنچادیا۔

ہادی برحق صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعلیمات کی برکت تھی کہ مسلمان صحرائے عرب سے نکلے اور دنیا کے چپے چپے کو نور ایمان سے منور کردیا، ان کے سامنے قرآن کا یہ فیصلہ تھا۔ ”احسن کما احسن اﷲ الیک “ یعنی لوگوں کے ساتھ سلوک کرو جیسا کہ اﷲ نے تمہارے ساتھ کیا ہے۔اﷲ تعالیٰ ہم سب کو حضور اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کی جملہ تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔