علیہ وسلم في رہط من مزینۃ لِنُبَایِعَہٗ وأن قمیصہ لمطلق أو قال زر قمیصہ مطلق۔ (شمائل ترمذي ۵، سنن أبي داؤد ۲؍۲۰۸)
تاہم نماز کی حالت میں اگر بٹن کھلے رہ جائیں تو نماز اگرچہ درست اور صحیح ہوجاتی ہے؛ لیکن بٹن کو بند ہی رکھنا چاہئے؛ کیوںکہ فقہاء نے کھلے رکھنے کو خلافِ اولیٰ لکھا ہے۔
وإن کان اختیاراً لما ہو خلاف الأولیٰ خصوصاً في الصلوات - إلی قولہ - ولم یکن ہٰذا من عامۃ أحوالہ ا۔ (بذل المجہود ۱۶؍۴۰۷)
وفي الشامیۃ: أنہ لو أدخل یدیہ في کمیہ ولم یشد وسطہ أو لم یزر إزارہ فہو مسیئ۔ (شامي ۱؍۶۴۰ کراچي، شامی ۲؍۴۰۵ زکریا، مراقي الفلاح ۲۰۲) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ
۷؍۵؍۱۴۱۴ھ
کہنیاں کھول کر نماز پڑھنا؟
سوال(۴۵۷):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: کرتا یا شرٹ کی آستینوں کو اوپر موڑنا اور کھول کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق:آستینوں کو موڑکر اور کہنیوں کو کھول کر نماز پڑھنا مکروہ ہے؛ تاہم اس طرح پڑھی گئی نماز واجب الاعادہ نہیں ہے۔
ولو صلی رافعاً إلی المرفقین کرہ۔ (الفتاویٰ الہندیۃ ۱؍۶۰۱، طحطاوي علی المراقي ۲۸۳، حلبي کبیر ۳۴۹ لاہور، فتاویٰ قاضي خان ۱؍۱۳۵) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
کتبہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۱۲؍۴؍۱۴۱۷ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
سردی میں ہاتھوں پر چادر لپیٹ کر نماز پڑھنا؟
سوال(۴۵۸):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے