۲؍۵۲۶ زکریا) فقط واللہ تعالیٰ اعلم
املاہ: احقر محمد سلمان منصورپوری غفرلہ ۵؍۸؍۱۴۳۳ھ
الجواب صحیح: شبیر احمد عفا اللہ عنہ
نماز پڑھتے ہوئے وقت نکل گیا؟
سوال(۵۴۱):- کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: نماز پڑھتے ہوئے اگر نماز کا وقت نکل جائے مثلاً فجر کی نماز میں سورج طلوع ہو جائے یا عصر کی نماز پڑھتے ہوئے غروب ہو جائے تو اب نماز کا کیا حکم ہے؟ آیا اسی طرح نماز پوری کریں یا وقت نکل جانے کی وجہ سے دوسرے وقت میں نماز قضا پڑھیں؟
باسمہٖ سبحانہ تعالیٰ
الجواب وباللّٰہ التوفیق: اگر فجر کی نماز پڑھتے ہوئے سورج نکل آیا ،یا عید کی نماز پڑھتے ہوئے زوالِ شمس ہوگیا، یا جمعہ پڑھنے کے دوران عصر کا وقت داخل ہوگیا وغیرہ، تو اس کی فرض نماز باقی نہ رہے گی؛ بلکہ دوبارہ پڑھنی ہوگی (البتہ اگر عصر کی نماز پڑھتے ہوئے سورج غروب ہوگیا تو نماز ِعصر ادا سمجھی جائے گی)
عن عقبۃ بن عامر الجہني رضي اللّٰہ عنہ یقول: ثلاث ساعات کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نہانا أن نصلي فیہن حین تطلع الشمس بازغۃ حتی ترتفع وحین یقوم قائم الظہیرۃ حتی تمیل الشمس، وحین تضیف الشمس للغروب حتی تغرب۔ (صحیح مسلم / باب الأوقات التي نہی عن الصلاۃ فیہا ۱؍۲۷۶ رقم: ۸۳۱)
وطلوع الشمس في الفجر لطر والناقص علی الکامل وزوالہا أي الشمس في صلاۃ العیدین ودخول وقت العصر في الجمعۃ۔ (مراقي الفلاح ۱۸۰، حاشیۃ الطحطاوي علی المراقي ۳۲۸، البحر الرائق ۱؍۳۷۵ کوئٹہ)
وغروب إلا عصر یومہ فلا یکرہ فعلہ لأدائہ کما وجب بخلاف الفجر۔